تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 320
نہ پہنچے ہوں جس میں انسان گنہگار ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے ان سب کو جنت میں داخل کر دے گا(سنن نسائی کتاب الجنائز باب من یتوفی لہ ثلاثة۔روح المعانی زیر آیت ھذا)۔اَدْخَلَہُ اللّٰہُ تَعَالَی الْجَنَّۃَبِفَضْلِہٖ وَبِرَحْمَتِہٖ اِیَّاھُمْ وہ بھی اور اس کی اولاد بھی سب جنت میں چلے جائیں گے۔یہ حدیث صاف بتاتی ہے کہ مومنوں کی اولاد جنت میں جائے گی۔جب آپؐ نے انصاری لڑکے کے متعلق فرمایا کہ تم کیوں کہتی ہو وہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے تو معلوم ہوتا ہے اُس وقت تک ابھی آپ پر اس کے متعلق انکشاف نہیں ہوا تھا۔کفار و مشرکین کے بچوں کی نجات و عدم نجات کے متعلق تین مذاہب باقی رہے کفار و مشرکین کے بچے۔سو اُن کے متعلق تین مذاہب ہیں۔اکثر کہتے ہیں کہ وہ دوزخ میں جائیں گے اور اُن کا استدلال اسی حدیث سے ہے جس کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ۔دوسرا گروہ اس کی نسبت خاموش ہے وہ کہتا ہے ہمیں کیاپتہ کہ کیا ہو گا۔یہ قیامت سے تعلق رکھنے والی بات ہے اس لئے ہم اس میںدخل نہیں دے سکتے۔تیسرا گرو ہ کہتا ہے کہ وہ جنّتی ہیں اور وہ کئی دلیلوں سے استدلال کرتے ہیں۔اُن میں سے زیادہ تر انحصار اُن کا اس حدیث پر ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ بچوں کو لے کر ایک بڑے درخت کے نیچے جنت میں بیـٹھے ہیں اور ان بچوں کو کھلا رہے ہیں لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! وَاَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ کہ کیا مشرکوں کی اولاد بھی اس میں شامل ہے؟ قَالَ وَاَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ آپ نے فرمایا ہاں مشرکین کی اولاد بھی اس میں شامل ہے (بخاری بحوالہ روح المعانی زیر آیت ھذا) اسی طرح اس آیت سے بھی استدلال کیا جاتا ہے کہ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا(بنی اسرائیل:۱۶) یعنی جب تک بعثتِ رسول نہ ہو جائے عذاب نازل نہیں ہو سکتا اور چونکہ بچوں کی طرف رسول کی بعثت نہیں ہوتی کیونکہ وہ مکلّف نہیں۔بعثتِ رسول اُسی کی طرف ہوتی ہے جو مکلّف ہو اس لئے معلوم ہوا کہ اُن کو کوئی عذاب نہیں ہو گا۔اِن تین مذاہب کے علاوہ بعض اور مذاہب بھی ہیں۔چنانچہ اُن میں سے ایک یہ ہے کہ بچے جنّت اور دوزخ کے درمیان عالمِ برزخ میں رہیں گے اور ایک یہ مذہب ہے کہ اُن کا دوبارہ امتحان ہوگا اور اس کے نتیجہ کے مطابق وہ جنت و دوزخ میں جائیں گے اور وہ امتحان اس طرح ہو گا کہ انہیں کہا جائے گا کہ جائو دوزخ میں چلے جائو۔جو دوزخ میں جانے پر راضی ہو جائیں گے وہ مطیع ہوں گے اور جنت میں بھیج دئے جائیں گے اور جو دوزخ میں جانے سے انکار کریں گے وہ کافر قرار دئے جا کر دوزخ میں ڈال دئے جائیں گے۔چنانچہ وہ لوگ اس حدیث سے بھی جو اُوپر گزر چکی ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اُن کے متعلق فرمایا وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ یہی