تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 298
کے دنیا میں کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی۔آسان سے آسان طریق کسی قوم کو تباہ کرنے کا یہ ہے کہ اُسے اپنی پچھلی تاریخ سے بدظن کر دیا جائے۔اگر اُسے اپنی پچھلی تاریخ سے بدظن کر دیا جائے تو وہ اُجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَالَھَا مِنْ قَرَارٍ (ابراہیم:۲۷ )کا مصداق بن جاتی ہے اور کبھی زندہ نہیں رہ سکتی۔یوروپین لوگوں نےاس آسان حربہ سے کام لیا اور تمام اسلامی تاریخ کو انہوں نے بگاڑ کر رکھ دیا۔بڑے بڑے مسلمان بادشاہوں کا ذکر کریں گے تو کہیں گے فلاں میں یہ نقص تھااور فلاں میں وہ نقص تھا۔اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ وہ اس کا نام تحقیقات رکھتے ہیں اور دعوے سے کہتے ہیں کہ تحقیق کے بعد یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ فلاں مسلمان بادشاہ ایسا تھا حالانکہ وہ سراسر جھوٹ ہوتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کسی مسلمان سے پوچھ کر دیکھو اُسے اپنے اسلاف میں کوئی خوبی نظر ہی نہیں آئے گی۔وہ کہے گا محمود غزنوی ڈاکو تھا اورنگزیب ظالم تھا۔فلاں ایسا تھا اور فلاں ایسا تھا۔گویا عیب شماری اور الزام تراشی ہی اُن کا کام رہ گیا ہے۔اُن کے اندر یہ حس ہی نہیں رہی کہ وہ کسی کی خوبیوں کو بھی دیکھ سکیں۔اس نقص کی وجہ سے مسلمانوں میں ٹریڈیشن کا وجود ہی باقی نہیں رہا اور اُن کی قومی ترقی کی جڑ کو کاٹ کر رکھ دیا گیا ہے۔وہ مسلمانوں کو اپنے آباء کے خلاف مشتعل کرنے کے لئے ایسے ایسے حربوں سے کام لیتے ہیں جو قطعاً کوئی شریف انسان استعمال نہیں کر سکتا۔مثلاً کسی مسلمان بادشاہ کا ذکر کریں گے تو کہیں گے کہ وہ تو شراب پیتا تھا اور وہ اِس الزام کا ذکر محض اس لئے کریں گے کہ مسلمانوں کی طبیعتوں میں جوش پیدا ہو جائے اور وہ اُسے بُرا بھلا کہنے لگ جائیں۔حالانکہ یہ الزام لگانے والے وہ ہیں جو خود دن رات شرابیں پیتے اور کئی قسم کے ناروا افعال کرتے رہتے ہیں مگر یہ شرابی قوم اپنے افعال کی طرف تو نہیں دیکھتی اور کسی مسلمان بادشاہ کا ذکرآ جائے تو اس کے متعلق لکھ دیتی ہے کہ وہ شراب پیتا تھا۔محض اس لئے کہ مسلمان بھڑک اٹھیں اور وہ اس سے متنفّر ہو جائیں حالانکہ یہ قوم وہ ہے جس کا ہر فرد شراب پیتا ہے جس کا بادشاہ بھی شراب پیتا ہے اور جس کا وزیراعظم بھی شراب پیتا ہے۔چرچل بھی شراب پیتا ہے اور روزویلٹ بھی شراب پیتا ہے۔مگر وہ مسلمان بادشاہ کے کے متعلق یہ ضرور ذکر کریں گے کہ وہ شراب پیتا تھا چلو ہم نے مان لیا کہ وہ شراب پیتا تھا مگر تم تو وہ ہو جو ہمیں اُس مسلمان بادشاہ سے متنفّر کر کے اُن لوگوں کی خوبیوں کا ہمیں قائل کرنا چاہتے ہوجو اس سے ہزاروں گُنے زیادہ شراب پیا کرتے تھے اورہزاروں گُنا زیادہ بُرے افعال کیا کرتے تھے۔غرض فرماتا ہے کہ وَاِذَاالنُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ یعنی تاریخ اسلامی مکّدر ہو جائے گی۔اُس کی خوبیاں مٹا دی جائیں گی اور یُوں معلوم ہو گا کہ نجوم میں انکدار واقع ہو گیا ہے۔(۲) نَجْمٌ کے ایک معنے چونکہ اَصْلٌ کے بھی ہیں اس لئے اَلنُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ کے معنے یہ بھی ہیں کہ جڑیں خراب