تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 294

قرآن کریم میںاللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو سورج قرار دیا ہے ( الاحزاب :۴۷)پس جب خدا نے یہ فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب کہ سورج کو لپیٹ دیا جائے گا تو اس کے معنے یہ تھے کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو ترک کر دیا جائے گا۔لوگ اپنی اپنی رائے پر عمل کریں گے اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے مسلمان بیزار ہو جائیں گے۔قلبی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء اور متابعت کی کوئی ضرورت نہیں سمجھیں گے اور آپ کی تعلیمات سے مُنہ پھیر لیں گے۔چنانچہ یہ نظارہ آج کل ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔مسلمانوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی طرف بہت ہی کم توجہ ہے۔قرآن پر عمل تو پہلے ہی نہیں تھا حدیث پر عمل بھی بہت حد تک اڑ گیا ہے اور اگر کچھ ہے تو وہ صرف لفظی عمل ہے حقیقت اور روح کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اس وجہ سے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا نور دنیا پر ظاہر نہیں ہوتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نورصرف اس بات میں نہیں کہ وضُو کرتے وقت بازو کو کہنی تک دھونا چاہیے اور سر پر مسح کرنا چاہیے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بھی بتایا ہے خواہ وہ انسانی زندگی کے کسی شعبہ سے تعلق رکھنے والی بات ہو اس میں سے ہر لفظ بلکہ ہر ایک حرف پر عمل کرنا ایسی چیز ہے جس کے ذریعہ انسان کا چہرہ سورج کی طرح چمکنے لگتا اور روحانی ترقیات کی طرف اس کا قدم سرعت سے بڑھنے لگتا ہے مگر مسلمانوں کو اس بات کا کوئی احساس ہی نہیں کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے نور کو وہ کس طرح سے دنیا سے اوجھل کر رہے ہیں بے شک ظاہر میں اہل حدیث کا ایک طبقہ موجود ہے جو اپنے آپ کو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے احکام پر عمل کرنے والا قرار دیتا ہے مگر وہ بھی اُن برکات کو ظاہر نہیں کرتا جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اپنے ہمراہ لائے تھے ان کا بھی زیادہ تر زور ظاہر پر ہے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کے مغز اور اس کی روح کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں۔پھر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ دنیا کی ہدایت کے لئے جو سب سے اہم چیز لائے وہ قرآن کریم ہے مگر اہلحدیث کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ قرآن کو حدیث کے تابع کر دیں۔گویا انہوںنے اگرایک چہرہ کو ظاہر کیا تھا تو دوسرے چہرہ کو انہوں نے مٹا دیا حالانکہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سورج ہونے کے لحاظ سے قرآن کے بھی مظہر تھے اور حدیث کے بھی مظہر تھے مگر وہ ایک حصہ کو بالکل مٹا دیتے ہیں اور اس طرح نہیں کہا جا سکتا کہ اُن کے ذریعہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا نور دنیا پر ظاہر ہو رہا ہے۔غرض وہ روحانی سورج جو دنیا کو روشنی پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تھا اس کی اتباع کو ترک کر دیا گیا ہے۔سُنّیوں میں اگر کہیں قرآن پر بحث ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ حدیث کو باطل کر دیں اور صرف قرآن کی اس تفسیر کو جو اُن کے ذہنوں نے پیدا کی ہے رہنے دیں۔اور اگر اہل حدیث کی طرف سے حدیث پر بحث ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ