تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 276
اور انہیں بڑی خوشخبریاں مل رہی ہوں گی۔کہ ابھی اور فتح آنے والی ہے اور غلبہ ملنے والا ہے اور نصرت نازل ہونے والی ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے مومن اور کافر چونکہ دو الگ الگ گروہ ہیں اس لئے ان سے ہمارا سلوک بھی الگ الگ ہو گا جو لوگ ہمارے احکام پر ایمان لائے ہیں ان کو ہم اپنے انعا مات سے حصہ دیں گے اور جنہوں نے انکار کیا ہے ان کو اپنے عذاب سے حصہ دیں گے۔چنانچہ فرماتا ہے اس دن کچھ چہرے ایسے ہوں گے جو روشن ہوںگے اور خوبصورت ہوں گے ہنس رہے ہوں گے اور خوش ہوں گے اور اللہ تعالیٰ سے بشارتیں حاصل کر رہے ہوں گے۔جیسا کہ حل لغات میں بتایا گیا ہے مُسْتَبْشِرَۃٌ دو معنے رکھتا ہے خوش ہونے کے بھی اور خوشخبری حاصل کرنے والے کے بھی۔تو مومنوں کو ہر دو امور حاصل ہوں گے۔وَ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌۙ۰۰۴۱تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌؕ۰۰۴۲ اور کچھ (لوگوں کے) چہرے اُس دن ایسے ہوں گے کہ اُن پر غبار اُڑ رہی ہو گی۔اُن پر سیاہی چھا رہی ہو گی حَلّ لُغَات۔غَبَرَۃٌ غَبَرَۃٌکے معنے ہیں اَلْغُبَارُ یعنی غبار (اقرب) تَرْھَقُ تَرْھَقُ رَھِقَسے ہے اور رَھِقَ کے معنے ہوتے ہیں غَشِیَہٗ وَلَحِقَہٗ۔اس کو جا پکڑا یا جا لیا (اقرب) پس تَرْھَقُھَا قَتَرَۃٌ کے یہ معنے ہوئے قترہ ان کو پکڑ لے گی یا قترہ اُن سے جا ملے گی اور قَتَرَۃٌ کے معنے ہوتے ہیں اَلْغَبَرَۃُ غبار اس کی جمع قَتَرٌ آتی ہے (اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے جس دن یہ افتراق پیدا ہو جائے گا کفر اور اسلام میں ایک بیّن امتیاز قائم ہو جائے گا۔خدا تعالیٰ کا صور آسمان سے پھونکا جائے گا اور مومن ایک طرف ہو جائیں گے اور کافر دوسری طرف۔کچھ لوگ ایمان کے باغ پر لٹّو ہو رہے ہوں گے اور کچھ لوگ کُفر کے گھاس پر مُنہ مار رہے ہوں گے اور اونٹ اور بکریاں درختوں کی طرف چلی جائیں گی اور انسان انگوروں اور کھجوروں کی طرف چلے جائیں گے یہ مضمون ہے جو اللہ تعالیٰ نے اِن آیات میں بیان کیا ہے۔فرماتا ہے اُس دن کچھ چہرے ایسے ہوں گے جن پر غبار پڑا ہوا ہو گا۔مطلب یہ ہوا کہ پہلے دن اُن کے منہ پر مٹی لگے گی اور پھر اُن کے سارے جسم کو ڈھانپ لے گی۔جانور کو جب ذبح کرنے کے لئے لٹایا جاتا ہے تو پہلے اُس کے منہ کو مٹی لگتی ہے لیکن جب اُسے ذبح کیا جاتا ہے تو وہ تڑپتا ہے اور اس تڑپنے کی وجہ سے اُس