تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 275

اور جب اس کو بتایا گیا کہ آپ تو خدا کے فضل سے بخیریت ہیں تو اُس کے مُنہ سے بے اختیار نکلا کہ اگر آپ خیریت سے ہیں تو پھر کوئی مصیبت ایسی نہیں ہو سکتی جو نا قابل برداشت ہو۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام غزوۃ احد) غرض يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ۔وَ اُمِّهٖ وَ اَبِيْهِ کا نظارہ ہمیں صحابہ کرام میں نظر آتا ہے۔اس کے بالقابل کفار میں بھی ایسا ہی جوش تھا کہ بھائی بھائی پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا اور باپ بیٹے کو قتل کرنے کے لئے دوڑتا۔چنانچہ جب جنگ ہوتی تو اس میں بھائی بھائی کو مارنے کے لئے آگے بڑھتا تھا اور اپنے رشتہ داری تعلقات کی ذرا بھی پروا نہیں کرتا تھا یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایک جنس نہیں ہیں بلکہ دو الگ الگ جنسیں ہیں۔مومن ہے تو وہ کہتا تھا میرا کافر سے کوئی واسطہ نہیں میرا وہی دوست ہے جو مومن ہے۔اور کافر ہے تو وہ کہتا تھا میرا مومن سے کوئی واسطہ نہیں۔میرا وہی دوست ہے جو کافر ہے۔یہی وہ صَاخَّۃ کی علامت ہے جو سچے مذہب کی آمد پر ظاہر ہوا کرتی ہے اور جس کے بعد کسی قسم کی مداہنت یا کسی قسم کی منافقت برداشت نہیں کی جا سکتی۔کفر اور ایمان میں ایک بیّن اور کُھلا کُھلا امتیاز ہو جاتا ہے۔لیکن جھوٹے مذاہب کے درمیان یہ بات نہیں ہوتی۔اسی طرح اُس قوم میں بھی یہ امتیازی علامت نہیں رہ سکتی۔جو جھوٹے مذہب کا حصہ بن جائے جیسے غیر مبایعین ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کے خلاف غیر احمدیوں کے پیچھے نمازیں پڑھ لیں گے۔اُن سے رشتہ داری تعلقات قائم کر لیں گے اور اس میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے حالانکہ خدا کی آواز صاخّہ ہوتی ہے اور جب وہ بلند ہوتی ہے تو بھائی کو اپنے بھائی سے اور رشتہ دار کو اپنے رشتہ دار سے جُدا ہونا پڑتا ہے۔وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ مُّسْفِرَةٌۙ۰۰۳۹ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ۰۰۴۰ کچھ (لوگوں کے) چہرے اُس دن روشن ہوں گے ہنستے ہوئے خوش بخوش۔حَلّ لُغَات۔مُسْفِرَۃٌ مُسْفِرَۃٌکے معنے ہیں مُضِیْئَۃٌ مُشْرِقَۃٌ۔روشن اور چمکنے والی۔چنانچہ اَسْفَرَ الصُّبْحُ کے معنے ہوتے ہیں اَضَائَ وَاَشْرَقَ۔صبح روشن ہو گئی اور اس کی سفیدی پھیل گئی۔اور اَسْفَرَ وَجْہُہٗ کے معنے ہوتے ہیں۔حَسُنَ وَاَشْرَقَ کہ اس کا چہرہ خوبصورت ہو گیا اور روشن ہو گیا (اقرب) پس فرماتا اُس دن کچھ چہرے ایسے ہوں گے جو بڑے خوبصورت ہوں گے۔بڑے روشن اور چمکدار ہوں گے۔ضَاحِکَۃٌ ہنس رہےہوں گے۔مُسْتَبْشِرَۃٌ۔مُسْتَبْشَرَۃٌ اِسْتَبْشَرَ سے ہے اور اِسْتَبْشَرَ کے معنے خوش ہونے کے بھی ہوتے ہیں اور خوشخبری حاصل کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔(لسان) پس مُسْتَبْشِرَۃٌ کے معنے یہ ہیں کہ وہ بڑے خوش ہوں گے