تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 16
بھی استعمال ہوتا ہے اور زمین کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔زمین کوجو مِھَاد کہتے ہیں اس کا بھی درحقیقت یہی مفہوم ہے کہ اُس میں فراش والی خوبیاں پائی جاتی ہیں۔تفسیر۔اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًا کے معنے یہ ہیں کہ کیا ہم نے زمین کو ایسا نہیں بنایا جیسے فراش ہواکرتا ہے۔فراش پر انسان کیا کرتا ہے۔یہی کہ لیٹتا ہے آرام کرتا ہے۔سوتا ہے اور اس طرح اُسے راحت حاصل ہوتی ہے۔فرماتا ہے ہم نے زمین کو تمھارے لئے ایسا ہی بنایا ہے کہ تم اس میں ہر قسم کے آرام پاتے ہو۔ہر قسم کی سہولتیں اس سے حاصل کرتے ہو اور تمھاری راحت کے تمام سامان اس میں موجود ہیں۔فرماتا ہے تم زمین کی اس حالت پر غور کرو اور سوچو کہ کیا واقع میں ہم نے زمین کو تمھارے لئے ایسا بنایا ہے یا نہیںبنایا۔وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ۰۰۸ اور پہاڑوںکو میخوں کے طور پر۔حلِّ لغات۔اَوْ تَادٌ اَوْتَادٌ وَ تَدٌ کی جمع ہے اور وَتَدٌ کے معنے اُس چیز کے ہوتے ہیں جسے زمین یا مکان کی دیوار میں گاڑا جائے۔گویا یہ لفظ کِیل کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔لغت میں بھی پہاڑوں کو اَوْتَادُ الْاَرْضِ کہتے ہیں چنانچہ لکھا ہے اَوْ تَادُ الْاَرْضِ جِبَالُھَاوَاَوْ تَادُ الْبِلَادِ رُءُ ؤ سَاءُ ھَا وَاَوْ تادُ الْفَمِ اَسْنَانُہٗ (اقرب ) یعنی جب اَوْتَادُ الْاَرْضِ کہا جائے تو اس سے مراد پہاڑ ہوں گے جب اَوْ تَادُ الْبِلَادِ کہا جائے تو اس سے مراد مختلف ممالک کے رؤسا ہوں گے اور جب اَوْ تَادُالْفَمِ کہا جائے یعنی منہ کے اوتاد۔تو اس سے مراد دانت ہوں گے کیونکہ جس طرح رؤساسے ملکی نظام قائم ہوتا ہے اسی طرح دانتوں سے منہ کا نظام قائم ہے۔دانتوں سے انسان کھانا کھاتا ہے اور دانتوں سے ہی چہرے کا حُسن قائم ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ دانتوں کو اَوْ تَادُ الْفَمِ قرار دیا جاتا ہے۔اسی طرح پہاڑوں سے چونکہ زمین میں حسن پیدا ہوتا ہے اور اس کی مضبوطی اور پختگی کا بھی وہ باعث ہوتے ہیں اس لئے پہاڑوں کو اَوْتَادُالْاَرْضِ کہا جاتا ہے۔کِیل کی بھی یہی غرض ہوتی ہے کہ وہ ایک طرف مضبوطی کا باعث ہوتا ہے اور دوسری طرف بعض چیزوں کے لئے سہارے کا موجب ہوتا ہے۔مثلاً دیوار میں اگر کوئی کیل گاڑا جائے تو اس کی غرض کسی چیز کو وہاں لٹکانا ہو گی۔گویا وہ کیل دوسرے کے لئے سہارے کا موجب ہوگا۔اسی طرح زمین میں جو کِیلے گاڑے جاتے ہیں اُن کی غرض اس کیلے سے کسی دوسری چیز کو باندھنا ہوتی ہے جیسے کسی جگہ خیمہ نصب کرنا ہو تو زمین