تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 190

سامان نہیں کیا ہو گا جب تمہارے جسم کی حفاظت کے لئے جو بہرحال ایک دن فنا ہو جانے والا ہے اللہ تعالیٰ نے اِس قدر سامان پیدا کر دئے ہیں جن میں سے بعض کروڑوں کروڑ میل پر ہیں تو اللہ تعالیٰ نے تمہاری روح کی حفاظت کے لئے کیوں سامان نہیں کئے ہوں گے۔وہ خدا جو عالم کبیر کا نظام ہر جہت سے مکمل رکھتا ہے عالم صغیر کی ضروریات پوری کرنے سے خواہ وہ روحانی ہوں یا جسمانی کس طرح اغماض کر سکتا تھا۔رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ۰۰۲۹ (اور) اس کی بلندی کو اونچا کیا ہے پھر اُسے بے عیب بنایا ہے۔حَلّ لُغَات۔اَلسَّمْکُ اَلسَّمْکُ مصدر ہے سَمَکَ کا اور اس کے معنے بلند کرنے یا بلند ہونے کے ہوتے ہیں اور سَمْکٌ اسم بھی ہے اس صورت میں اس کے معنے چھت کے یا چھت سے تہ زمین تک کے فاصلے کے ہوتے ہیں اور اس کے معنے کسی چیز کی اونچائی کے بھی ہوتے ہیں (اقرب) کہتے ہیں سَنَامٌ سامکٌ۔اونٹ کا اونچا کوہان (تاج ) اور موٹاپے کو بھی کہتے ہیں سَمْکَ الْمَنَارَۃِ یعنی مینارہ کی گولائی (اقرب) گویا اس کے معنوں میں دو چیزیں پائی جاتی ہیں یا تو فاصلہ ہو اور وہ چیز بہت اونچی ہو اور یا پھر خود وہ چیز قد میں اونچی ہو یا دَل میں موٹی ہو۔ابن جزی کہتے ہیں اَلسَّمْکُ غِلْظُ السَّمَآ ئِ وَ ھُوَ الْاِرْتِفَاعُ الَّذِیْ بَیْنَ سَطْحِ السِّفْلِ الْاسْفَلِ الَّذِیْ یَلِیْنَا وَسَطْحُھَا الْاَعْلَی الَّذِیْ یَلِیْ مَا فَوْقَھَا یعنی سَمْک کے معنے آسمان کا دَلْ ہے اور اس سے مراد آسمان کی وہ بلندی ہے جو آسمان کی نچلی سطح اور اوپر کی سطح کے درمیان ہے (فتح البیان زیر آیت ھذا) اس کے معنوں میں ایک اختلاف بھی ہے اور وہ یہ کہ بعض لُغت والے کہتے ہیں سَمْکٌ کا لفظ خالی بلندی کی طر ف اشارہ نہیں کرتا بلکہ اعلیٰ سے اسفل کی طرف جانے کو سَمْکٌ کہتے ہیں۔اقرب والے نے بھی یہی لکھا ہے کہ مِنْ اَعْلَی الْبَیْتِ اِلٰی اَسْفَلِہٖ لیکن بعض دوسرے ادیب اس کے خلاف نیچے سے اوپرکے معنے کرتے ہیں صاحب کشاف زیرآیت ھذا لکھتے ہیں رَفَعَ سَمْکَھَا اَیْ جَعَلَ مِقْدَارَ ذِھَابِھَا فِیْ سِمْتِ الْعُلُوِّ مدِیْدًا رَفِیْعًا یعنی نیچے سے اوپر تک اس کا دَلْ لمبا اور اونچا ہے۔پس سَمْکٌ نام ہے نیچے سے اوپر کی طرف جانے کا گویا مِنْ اَعلَی الْبَیْتِ اِلٰی اَسْفَلِہٖ کی بجائے مِنْ اَسْفَلِ الْبَیْتِ اِلٰی اَعْلَاہُ کو سَمْکٌ کہتے ہیں۔بعض ادیب اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ اعلیٰ سے اسفل کی طرف نسبت بتانے کے لئے عربی زبان میں عُمْق کا لفظ پایا جاتا ہے(مفردات ) چنانچہ جب عُمْق کا لفظ کہا جاتا ہے تو اس سے مراد اوپر سے نیچے کی