تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 186

پیدائش زیادہ مشکل ہے۔اَمِ السَّمَآءُ بَنٰىهَامیں السماء سے مراد اجرام فلکی یہاں اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَا سے مراد صرف آسمان ہی نہیں جیسا کہ اگلی آیات سے ظاہر ہے کہ ایک طرف تو اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَا کہا اور دوسری طرف تشریح کرتے ہوئے اس میں زمین کو بھی شامل کر لیا۔پس درحقیقت یہاں سماء سے مراد نظامِ سماوی ہے اور اس کی پیدائش کی اہمیت کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا۔وَ اَغْطَشَ لَيْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۔وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا۔اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۔وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَا۔مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْ گویا جو تشریح کی گئی ہے اُس میں اجرام فلکی۔بلندی۔جَواور زمین وغیرہ سب شامل ہیں۔پس یہاں سماء سے مراد نظامِ سماوی ہے خالی وہ سماء مراد نہیں جو زمین کے مقابلہ میں ہوتا ہے بلکہ وہ سماء مراد ہے جس میں زمین بھی شامل ہے۔فرماتا ہے کہ کارخانۂ عالم جس کا ہم اب ذکر کرنے والے ہیں تم سے بہت زیادہ اہم اور پیچیدہ ہے۔انسان درحقیقت اپنے متعلق دھوکا کھا جاتا ہے اور وہ یہ کہ بظاہر وہ یہ خیال کرتا ہے کہ نظامِ عالم اور انسان کو آپس میں مشابہ کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے اور ان میں ایک دوسرے کی دلیل کس طرح بن سکتا ہے۔انسان تو بڑا عقلمند۔سمجھدار اور غور و فکر کا ملکہ اپنے اندر رکھنے والا ہے اور سورج چاند وغیرہ میں کوئی سوچ سمجھ نہیں۔اس طرح وہ خیال کرتا ہے کہ یہ دلیل ایسی دلیل ہے جس میں ایک ادنیٰ چیز کو اعلیٰ چیز سے مشابہت دی جاتی ہے او رادنیٰ چیز کو ثابت کر کے اعلیٰ چیز کے وجود کا استدلال کیا جاتا ہے مگر یہ غلط ہے درحقیقت پیدائشِ عالم کے سلسلہ سے استدلال اعلیٰ سے ادنیٰ کا استدلال ہے نہ کہ ادنیٰ سے اعلیٰ کا استدلال۔اس میں استدلال بالاولیٰ ہے۔بات یہ ہے کہ انسان کو اپنی ذات کے متعلق یہ دھوکا لگ جاتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے میں بڑا سوچنے والا اور سمجھنے والا اور تدبر کرنے والا انسان ہوں اس لئے اپنی ذات کی ابتداء کی طرف اُس کا ذہن نہیں جاتا۔انسان اپنے آپ کو مکمل سمجھتا اور دنیا میں خدا تعالیٰ کا قائم مقام سمجھتا ہے اِس لئے سبب اور مسبب کی جو دلیل ہے اس کی طرف اپنی پیدائش کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا ذہن نہیں جاتا۔اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمیشہ نظامِ عالم کو اپنی ہستی کے ثبوت میں پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ دیکھو کیا تمہیں اس عظیم الشان نظام سے یہ نظر نہیں آتا کہ اس میں ایک خالق کا ہاتھ کام کر رہا ہے اور ہر ٹکڑہ دوسرے ٹکڑے کا محتا ج ہے کوئی چیز اپنی ذات میں منفرد نہیں ہے۔سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ دنیا اس طرح بنی ہے کہ ذرّے آپس میں جُڑ گئے اور اُن ذرّوں کے آپس میں ملنے سے آہستہ آہستہ یہ عظیم الشان دنیا تیار ہو گئی۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے مان لیا دنیا مختلف ذرّات کے مجموعہ سے بنی ہے مگر اُن ذرّوں کے آپس میں ملنے سے یہ کس طرح ہو گیا کہ ہمیں آج یہاں