تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 161

نازک تھی کہ حضرت عمرؓ جیسے انسان نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے نرمی کرنی چاہیے مگر حضرت ابو بکرؓ نے جواب دیا ابو قحافہ کے بیٹے کی کیا طاقت ہے کہ وہ اس حکم کو منسوخ کر دے جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے خدا کی قسم اگر یہ لوگ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اُونٹ کا گھٹنا باندھنے کی ایک رسّی بھی زکوٰۃ میں دیا کرتے تھے تو میں وہ رسّی بھی اُن سے لے کر رہوں گا اور اس وقت تک دم نہیں لوں گا جب تک وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے (بخاری کتاب الزکوٰۃ باب وجوب الزکاۃ )اگر تم اس معاملہ میں میرا ساتھ نہیں دے سکتے تو بے شک نہ دو میں اکیلا ہی اُن سے مقابلہ کروں گا۔کس قدر اتباعِ رسول ہے کہ نہایت خطرناک حالات میں باوجود اس کے کہ اکابر صحابہ لڑائی کے خلاف مشورہ دیتے ہیں پھر بھی رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم کوپورا کرنے کے لئے وہ ہر قسم کا خطرہ برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔صحابہ کے آنحضرت صلعم کی کامل اقتداء کرنے کے بعض واقعات اسی طرح لشکرِ اسامہ کو روک لینے کے متعلق صحابہؓ نے بہت زور لگایا مگر حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر دشمن اتنا طاقتور ہو جائے کہ وہ مدینہ پر فتح پائے اور مسلمان عورتوں کی لاشیں کُتّے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اس لشکر کوجسے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھجوانے کے لئے تیار کیا تھا روک نہیں سکتا (تاریخ الخلفاء للسیوطی فصل فی ما وقع فی خلافۃ ابی بکر،البدایۃ والنھایۃ فصل فی تنقید جیش اسامۃ بن زید) اسی طرح کی ایک نقل کا واقعہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا بھی ہے اُن کے متعلق لکھا ہے کہ وہ جب حج کے لئے جاتے تو ایک جگہ پیشاب کرنےکی طرز پر بیٹھ جاتے چونکہ ہر بار حج کو جاتے ہوئےاس طرح کیا کرتے تھے اس لئے ایک دفعہ اُن کے کسی دوست نے اُن سے کہا کہ آپ یہ کیا کرتے ہیں کہ ہر دفعہ اس مقام پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ بعض دفعہ پیشاب نہیں کرتے یونہی بیٹھ کر آجاتے ہیں۔آخر اس کی وجہ کیا ہے اور آپ کیوں ایسا کرتے ہیں؟ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے جواب دیا کہ میں نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ایک دفعہ یہاں پیشاب کرتے دیکھا تھا اس لئے میں جب بھی یہاں سے گزرتا ہوں میرا جی چاہتا ہے کہ میں بھی آپ کے فعل کی نقل کروں چنانچہ میں اس جگہ پیشاب کرنے کی طرز پر بیٹھ جایا کرتا ہوں۔جس قوم نے اس حد تک نقل کو پہنچا دیا ہو اس کے متعلق ہر شخص فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ اخلاقی اور روحانی امور میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی نقل کرنے کی کس حد تک کوشش کرتی ہو گی۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا بے شک مسلمان تمہاری نگاہ میں ذلیل ہیں لیکن ایک شخص جس کی قابلیت کے تم بھی معترف ہو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم ہیں اور تم دیکھ رہے ہو کہ مسلمان اُن کی کامل اقتداء کر رہے ہیں پس بے شک آج اُن میں قابلیت نہ ہو لیکن