تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 160

رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لانے والےنوجوانوں میں سے صرف حضرت زبیرؓ ہی لکھ سکتے تھے باقی صحابہؓ لکھنا بھی نہ جانتے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ مسلمان اپنے باپ کی مشابہت اختیار کرر ہے ہیں۔اور جب یہ اپنے باپ کے مشابہ ہو جائیں گے تو جو قابلیتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی ہیں وہی ان میں پیدا ہو جائیں گی۔تم تسلیم کرتے ہو کہ محمد صلے اللہ علیہ وسلم امین ہیں۔جب تم اس خوبی کو تسلیم کرتے ہواور دوسری طرف مسلمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہ لازمی بات ہے کہ وہ بھی امین بن جائیں گے تم تسلیم کرتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم صدوق ہیں اور تم یہ بھی دیکھ رہے ہو کہ مسلمان آپ کی اقتداء کی کامل کوشش کر رہے ہیں تو اس کا یہ ایک لازمی نتیجہ نکلنے والا ہے کہ جس طرح آپ صدوق ہیں اسی طرح مسلمان بھی راستبازی اور صداقت شعاری کا ایک نمونہ بن جائیں گے پس گو تمہیں آج مسلمانوں میں کوئی قابلیت نظر نہیں آرہی لیکن حصول علم کی خواہش اور اچھے نمونہ کی موجودگی کی وجہ سے ایک دن خود بخود ان میںبھی قابلیت پیدا ہو جائے گی۔غَرْقًا کے معنے یہ ہیں کہ انہوں نے اتباع رسول کو حد تک پہنچا دیا ہے چنانچہ دیکھ لو مشابہتِ رسول کو مسلمانوں نے کس حد تک پہنچا دیا کہ سوائے اسلام کے اور کوئی مذہب ایسانہیں جس میں سُنت کا لفظ پایا جاتا ہو باقی مذاہب میں یا حدیث کا ذکر آتا ہے یا الہام کا۔یا تو وہ کہیں گے قَالَ مُوْسٰی یعنی موسیٰ نے یوں کہا۔قَالَ عِیْسٰی یعنی عیسیٰ نے یوں کہا۔اور یا کہیں گے اُوْحِیَ اِلٰی مُوْسٰی موسیٰ کی طرف یہ وحی کی گئی یا اُوْحِیَ اِلٰی عِیْسٰی عیسیٰ کی طرف یہ وحی کی گئی۔یہ کبھی نہیں کہیں گے کہ یہ موسیٰ ؑکی سنت ہے یا عیسیٰ ؑ کی سنّت ہے یا کرشن ؑ کی سنّت ہے یا رامچندر ؑ کی سنّت ہے۔سنّت کی اصطلاح سوائے اسلام کے اور کسی مذہب میں نہیں پائی جاتی۔یہ اصطلاح اسلام سے مخصوص ہے اور ہر مسلمان یہ معلوم کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اعمال کو کس طرح بجا لاتے تھے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہےوَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا یہ مسلمان محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی نقل کو انتہا ءتک پہنچا دیں گے۔اور جب آپ کی کامل طور پر نقل کر لیں گے تو محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی قابلیتوں کے بھی وہ حامل ہو جائیں گے۔پھر ان کی خوبیوں اور کمالات میں کیا شبہ ہو سکے گا جب کہ ہر شخص ان میں سےاپنے اپنے دائرہ میں ایک چھوٹا محمد بن جائے گا۔چنانچہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی متابعت صحابہؓ جس طرح کیا کرتے تھے اس کا ثبوت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ایک واقعہ سے مل سکتا ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب بعض قبائلِ عرب نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے خلاف جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔اُس وقت حالت ایسی