تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 155

نَزَعَ کے دوسرے معنے رغبت کے ہیںچنانچہ نَزَعَ اِلٰی الشَّیْءِ کے معنے ہوتے ہیں اِشْتَھَاہُ اس چیز کی خواہش کی اور نَزَعَ اِلیٰ اَھْلِہٖ کے معنے ہوتے ہیں اِشْتَاقَ اُسے اپنے اہل سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔گویا اس میں صرف رغبت کے معنی ہی نہیں پائے جاتے بلکہ اس رغبت کے معنے پائے جاتے ہیں جو انسان کو اپنے اہل کے متعلق ہوتی ہے اور یہ ہر شخص جانتا ہے کہ اہل کی طرف رغبت عام رغبت سے زیادہ ہوتی ہے۔ایک واقف سے ملنے کی خواہش اور قسم کی ہو گی لیکن ایک بچہ جب اپنی ماں سے ملتا ہے یا ماں اپنے بچہ سے ملتی ہے تو وہ خواہش اور وہ رغبت بہت زیادہ ہوتی ہے تو وَالنَّازِعَاتِ کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ گو تم میں سے بھی بعض کو نیکی کے حصول کا معمولی اشتیاق ہے لیکن مسلمان ایسے ہیں کہ جب انہیں نیک باتوں کا علم ہوتا ہے تو وہ ان کی طرف اس رغبت اور شوق سے دوڑتے ہیں جس رغبت اور شوق سے ایک بچہ اپنی ماں کی طرف جاتا ہے گویا دونوں قسم کے کمالات اُن میں نظر آتے ہیں۔غرض پہلا قدم قومی ترقی کے لئے یہ ہوتا ہے کہ قوم اُن اعمال سے بچتی ہے جو ترقی میں روک ہوتے ہیں مثلاً سُستی ہے، جہالت ہے، غفلت ہے، ضد ہے، نافرمانی ہے، ظلم ہے، لڑائی جھگڑا ہے، بد سلوکی ہے، تلخی ہے، جھوٹ ہے، فریب ہے، خیانت ہے، فسق وفجور ہے یا اسی طرح کی اور خرابیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ لوگ وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا ہیں کہ اپنے نفوس کو ایسی تمام باتوں سے روکتے ہیں جن سے رُکنا چاہیے اور ان میں یہ مادہ پایا جاتا ہے کہ جب انہیں کہا جاتا ہے فلاں بات بُری ہے اس سے بچو تو یہ فوراً اس سے رُک جاتے ہیں اور اس حد تک اپنے نفوس کو روکتے ہیں کہ غَرْقًا ہو جاتے ہیں یعنی اپنے نفوس پر غالب آجاتے ہیں مگر تمہاری یہ حالت ہے کہ تم مانتے ہو کہ فلاں فلاں باتیں بُری ہیں مگر تم ان سے بچتے نہیں۔پھر یہ صرف اپنے نفوس پر ہی غالب نہیں آتے بلکہ دوسروں کی بھی اصلاح کرتے ہیں گویا ان میں خالی اپنے نفس کو روکنے کا ہی مادہ نہیں بلکہ دوسروں کی اصلاح کا مادہ بھی اُن کے اندر پایا جاتا ہے۔چنانچہ اِغْرَاق کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ لوگ ایک شخص پر حملہ آور ہوئے اور اُسے مغلوب کر لیا گویا جب وہ اپنے کسی ساتھی میں کوئی عیب دیکھتے ہیں تو وہ صرف اس بات پر راضی نہیں ہو جاتے کہ ہم نے اپنے آپ کو اس بدی سے روکا ہوا ہے بلکہ وہ سارے اکٹھے ہو کر اس پر حملہ آور ہو جاتے اور پھر اُسے مغلوب کر لیتے ہیں یعنی یا تو وہ اُس کا عیب دُور کر دیتے ہیں اور اُسے نیک بنا لیتے ہیں اور یا پھر وہ اُس کو اپنی قوم میں سے باہر نکال دیتے ہیں۔بدی کا وجود وہ اپنے اندر برداشت نہیں کر سکتے مگر یہ اوپر کا درجہ ہے پہلا درجہ یہی ہے کہ جتنی چیزیں انسان کی ترقی میں روک بننے والی ہیں وہ اُن سب سے بچتے ہیں اور دوسرا درجہ یہ ہے کہ وہ بدی کو اپنی قوم میں دیکھ ہی نہیں سکتے۔جہاں بدی اُن کو نظر آتی ہے فوراً اس پر حملہ کر دیتے ہیں اور بدی کرنے والے کو مغلوب کر لیتے ہیں یعنی یا تو