تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 11

الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ۰۰۴ جس کے بارے میں یہ لوگ (قرآن کی بتائی ہوئی حقیقت سے ) اختلاف رکھتے ہیں۔حل لغات۔مُخْتَلِفُوْنَ مُخْتَلِفُوْنَ مُخْتَلِفٌ کی جمع ہے اور مُختَلِفٌ اِخْتَلَفَ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کے معنےآپس میں ایک دوسرے سے اختلاف کرنے کے ہیں (اقرب) پس مُخْتَلِفُوْنَ کے معنے ہوں گے اختلاف کرنے والے۔اور اَلَّذِیْ ھُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوْن کے معنے ہوں گے جس میں وہ اختلاف ظاہرکررہے ہیں۔تفسیر۔یہاں تفخیم اورا ستعجاب کا پہلو زیادہ نمایاں ہے کیوں کہ پہلے ایک خبر کو نبأ عظیم قرار دیتا ہے۔اور پھر فرماتا ہے اَلَّذِیْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوْنَ یعنی وہ نبأ عظیم جس میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں گویا اول تو نبأ میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے تھا اور پھرنبأ عظیم میں تو کسی صورت میں بھی اختلاف نہیں ہو سکتا تھا مگر یہ وہ لوگ ہیں جو نبأ عظیم میں بھی اختلاف کر رہے ہیں۔گویا ادھر ایک ایسی عظیم الشان خبر موجود ہے اور اُدھر یہ لوگ ایسے ذلیل ہیں کہ اس عظیم الشان خبر میں بھی اختلاف کرتے ہیں۔بعث بعد الموت قرآن اور غلبہ اسلام کے متعلق کفار کا اختلاف اور اس کا مطلب بعض لوگوں نے اس موقع پر اعتراض کیا ہے کہ الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْتَلِفُوْنَ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ اس جگہ نبأ عظیم سے مراد قرآن نہیں اور نہ بعث بعد الموت مراد ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفّار ان امور میں اختلاف کرتے تھے حالانکہ وہ بعث بعد الموت کے منکر تھے اور وہ تسلیم ہی نہیں کرتے تھے کہ مرنے کے بعد بھی کوئی زندگی ہے۔پس جب وہ اس عقید ہ کو تسلیم ہی نہیں کرتے تھے تو اس میں وہ اختلاف کیونکر کرسکتے تھے۔اسی طرح قرآن کریم پر بھی وہ ایمان نہیں رکھتے تھے پس قرآن کریم کے متعلق بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کفّار اس کے متعلق اختلاف کیاکرتے تھے۔لیکن یہ اعتراض درست نہیں۔اس لئے کہ سب کے سب کفّار بعث بعد الموت کے منکر نہیں تھے بلکہ اُن میں بھی اس بارہ میں اختلاف تھا گو وہ اس بعث کی شکل اَور سمجھتے ہوں۔گویا اوّل تو سب کفّار اس عقیدہ کے منکرنہیں تھے اور پھر جو لوگ اسکے قائل تھے اُن میں سے بعض کو صر ف بعث کی شکل میں اختلا ف تھا اسی وجہ سے عربوں میںیہ روایات پائی جاتی تھیں کہ جب کوئی شخص مارا جاتا ہے اور پھر اس مقتول کا بدلہ نہیں لیا جاتا تو اُس کی رُوح اُلُّو کی شکل میں آکر چیختی چلّاتی ہے(لسان العرب زیر مادہ ھوم)۔اگر وہ مرنے کے بعد کسی حیات کے قائل نہیں تھے تو اُلُّو کی شکل میں مقتول کی روح کے آنے کے وہ کس طرح قائل ہو سکتے تھے۔پس درحقیقت وہ کسی حقیقی علم پر قائم نہیں تھے بلکہ خود اِ س بارہ میں اُن