تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 117

جائے گا۔اور وہ سمجھے گا کہ محمد صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے چونکہ (نعوذ باللہ من ذالک) جھوٹی قسمیں کھائی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں پکڑے اور سزا دے۔اس کے بعد اِن قسموں کے نتائج اُس پر خود ظاہر کر دیں گے کہ حقیقت کیا ہے۔بہرحال حلف کلام الٰہی کی صداقت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔اور گو حلف کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہو۔مگر چونکہ جھوٹے کلام کی صورت میں قسم کھانے والا وہی انسان ہو گا جو اس کلام کو پیش کرتا ہے۔اس لئے وہ قسم اس کے خلاف پڑے گی اور اس طرح ظاہر ہو جائے گا کہ حقیقت کیا تھی۔صداقت کس طرف تھی اور دھوکہ و فریب کس طرف تھا۔دوسرے وہی حلف حلف کہلا سکے گی جو حلف کی غرض پوری کرتی ہو۔اور حلف کی غرض یہی ہوتی ہے کہ دوسرے وجود سے اپنا تعلق بتا کر اُسے بطور شاہد پیش کیا جاتا ہے اور اِن معنوں سے خدا تعالیٰ بھی حلف اٹھا سکتا ہے کیونکہ حلف کی ایک غرض یہ ہوتی ہے کہ قسم کھا کر دوسرے کو یقین دلایا جاتا ہے کہ اس بارہ میں فلاں اور مَیں دونوں ایک ہی بات کہتے ہیں۔جب کوئی کہتا ہے خدا تعالیٰ کی قسم! فلاں بات اس طرح ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ بھی جانتا ہے کہ یہ بات اس طرح ہے۔اور میں بھی جانتا ہوں کہ یہ بات اس طرح ہےاور اگر کسی اورچیز کی گواہی اپنی تائید میں پیش کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ فلاں چیز بھی اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ میںجو کچھ کہہ رہا ہوں وہ بالکل درست ہے۔اس طرح اُس چیز کی گواہی بتا دیتی ہے کہ جو کچھ کہا گیا ہے وہ غلط ہے یا درست۔خدا تعالیٰ چونکہ لوگوں کی نگاہوں سے مخفی ہے اس لئے جب وہ کسی چیزکو بطور گواہ پیش کرے گا تو اُس چیز کی گواہی صداقت یا عدم صداقت کو بالکل ظاہر کر دے گی۔اگر وہ چیز گواہی دے دے گی تو ثابت ہو جائے گا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ کہا گیا ہے واقعہ میں وہ اُسی نے کہا ہے اور اگر وہ چیز گواہی نہیں دے گی تو ثابت ہو جائے گا کہ خدا تعالیٰ کی طرف غلط بات منسوب کی گئی ہے پس خدا تعالیٰ کے قسم کھانے کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ اس چیز یا چیزوں کو جن کی وہ حلف اٹھاتا ہے اپنے دعویٰ کی صداقت کے لئے بطور گواہ پیش کرتا ہے اگر وہ اشیاء گواہی دے دیں گی تو معلوم ہو جائے گا کہ خدا تعالیٰ کی طرف وہ کلام سچے طورپر منسوب کیا گیا ہے اور اگروہ گواہی نہیں دیں گی تو ثابت ہو جائے گا کہ وہ کلام جھوٹے طور پر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہوا ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ کے کلام میں اگر یہ آجائے کہ فلاں بات کی صداقت پر پہاڑ گواہی پیش کریں گے تو یہ بات بالکل صاف ہو جائے گی اگرپہاڑ گواہی دے دیں گے تو ثابت ہو جائے گا کہ یہ بات خدا تعالیٰ نے ہی کہی تھی کیونکہ پہاڑوں سے گواہی دلوانا کسی انسان کے اختیار میں نہیں خدا ہی اُن سے گواہی دلوا سکتا ہے۔اور اگر وہ گواہی نہیں دیں گے تو کلام کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے گا