تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 105
قرآنی قسموں کی فلاسفی یہاں موقع کے لحاظ سے اگرچہ اس بحث کی جگہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ قسمیں کیوں کھاتا ہے۔اس سے پہلے بہت سی سورتیںایسی گزر چکی ہیں جہاں یہ بحث آنی چاہیے تھی مگر چونکہ آخری پارے کی تفسیر پہلے شائع ہو رہی ہے۔اس لئے جیسے سورۂ یونس سے پہلے مقطّعات کے متعلق بحث کی گئی ہے کیونکہ اس حصہ کی تفسیر سورۂ بقرہ سے پہلے شائع ہوئی ہے۔یہاں بھی اس امر پر بحث کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قسم کیوں کھاتا ہے یا پھر یہ کہ اگر یہ قسم خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تو کیا بندے کی طرف سے ہے؟ ادنیٰ تدبر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ قسم بندے کی طرف سے نہیں ہو سکتی۔کیونکہ اس کے بعد جو مضمون بیان ہوا ہے وہ انسان کی طرف سے نہیں کہا جاسکتا۔ان قسموں کے بعد فرمایا گیا ہے یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ اور یہ ایک پیشگوئی ہے اور پیشگوئی علمِ غیب سے ناواقف انسان کی طرف سے نہیں ہو سکتی۔عالم الغیب ہستی ہی کی طرف سے ہو سکتی ہے۔پس ان قسموں کو خدا تعالیٰ کی قسمیں ہی قرار دینا پڑے گا اور اس پر سوال پیدا ہو گا کہ خدا نے قسم کیوں کھائی یا کیوں وہ متعدد مقامات پر قسم کھاتا ہے؟ انسان تو اس لئے خدا تعالیٰ کی قسم کھا یا کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایک بالا ہستی ہے اور انسان اس کے مقابلہ میں بالکل بے بس ہے وہ خدا تعالیٰ کو اپنے دعویٰ کی تائید میں گواہ کے طور پر پیش کرتا ہے اَور یہ کہتا ہے کہ اگر مَیں اُس کا نام گواہی کے طور پر یُوں ہی لیتا ہوں تو وہ طاقت رکھتا ہے کہ مجھے تباہ کر دے اور اگر وہ باوجود اس کا نام جھوٹے طور پر لے دینے کے مجھے تباہ نہ کرے تو سمجھ لو کہ وہ میرے سچے ہونے کی گواہی دیتا ہے۔لیکن خدا کے اُوپر تو کوئی اَور ہستی نہیں جسے وہ اپنے دعویٰ کی سچائی کے ثبوت میں پیش کر سکتا ہو اور جب تمام چیزیں خدا تعالیٰ سے شان اور طاقت میں چھوٹی ہیں تو چھوٹی چیز کی قسم کھانے سے کیا فائدہ۔ایسی قَسم کے تو کوئی معنے ہی نہیں ہو سکتے۔انسان اگر قسم کھاتا ہے تو بڑی چیز کی کھاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ سے بڑی تو اورکوئی ہستی نہیں پھر خدا تعالیٰ نے قسم کیوں کھا ئی ہے۔قسم کھانے کا مطلب جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے انسان جب قسم کھاتا ہے تو اُس کی قسم کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا حکم سچ بولنے کا ہے اگر میں جھوٹ بولتا ہوں تو اُس کا حکم توڑتا ہوں اور اُس کے غضب کو اپنے اُوپر بھڑکاتا ہوں اِس لئے میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں سچ بول رہا ہوں تا کہ اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو اللہ تعالیٰ میرے جھوٹ اور نافرمانی کی وجہ سے مجھے سزا دے۔گویا انسان جب اللہ تعالیٰ کی قسم کھا تا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جھوٹ کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا غضب بھڑکا کرتا ہے کیونکہ خدا جھوٹ کو ناپسند کرتا ہے ایسی حالت میں جب میں خدا کی قسم کھا کر کوئی جھوٹی بات کہتا ہوں تو گویا اُس کے غضب کو میں اَور بھی بھڑکاتا ہوں۔کیونکہ اول خدا کا حکم تھا کہ میں سچ بولوں مگر میں نے خدا کے حکم کو توڑا اور سچ بولنے کی بجائے جھوٹ سے کام لیا۔