تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 101
ہوتا۔لیکن ہمیں اس دنیا میں وہ سامان نظر نہیں آتے۔وہ ذرائع اور وہ اسباب دکھائی نہیں دیتے جن سے یہ کام ہو گا۔ان کی فطرتیں تب تسلی پاتی ہیں جب اُن پیشگوئیوں کی صداقت کے متعلق اس مادی دنیا میں آثار ظاہر ہونے شروع ہوجاتے ہیں اگر اس قسم کے آثار ظاہرہونا شروع ہو جائیں تب وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہی اسباب اور ذرائع ایک دن اس کام کے پورا کرنے کا ذریعہ بن جائیں گے۔پس چونکہ دنیا میں بعض طبائع اس قسم کی ہوتی ہیں جن کا اطمینا ن اُس وقت تک نہیں ہوتا جب تک وُہ پیشگوئی کی صداقت کے آثار دیکھنا شروع نہ کر دیں اس لئے جب یہ پیشگوئی کی گئی کہ مسلمان ایک دن غالب آئیں گے اور نہ صرف غالب آئیں گے بلکہ ان کا غلبہ اس قدر بڑھ جائے گاکہ وہ مشرکین کو مکّہ میںسے نکال دیں گے تو ایسے لوگ ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھتے تھے اور کہتے تھے یہ تیس چالیس آدمی ہیں۔دشمن ان کو مارتا ہے۔پیٹتا ہے۔دکھ دیتا ہے۔گرم گرم پتھروں پر لٹاتا ہے۔مکّہ کی گلیوں میں ان کی ٹانگوں میں رسیاں باندھ کر گھسیٹا جاتا ہے اور ان کی طرف سے کہا یہ جارہا ہے کہ ہم ایک دن ساری دنیا پر غالب آجائیں گے اور مشرکین کو اس سرزمین سے نکال دیں گے آخریہ ہو گا کس طرح؟ ہمیں تو اس مادی دنیا میں اس غلبہ کے ظہور کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔پس وہ سوال کرتے تھے کہ یہ غلبہ کیونکر ہو گا؟ سورۃ نازعات میں ان کے اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے اور متقیوں کاوہ مَفَاز جس کا سورہ نباء میں ذکر کیا گیا تھا اُس کی تفصیل بتا ئی گئی ہے کہ مومن کس طرح اس دنیا میں ترقی کرنا شروع کریں گے۔کس طرح انہیں غلبہ حاصل ہو گا اور کون سے وہ آثار رونما ہوں گے جن سے تم بھی یہ اندازہ لگا سکو گے کہ یہ قوم ایک دن غالب آ جائے گی۔اگلے جہان میں مسلمان کو جو کچھ حاصل ہو گا وہ تو ہو گا ہی۔سورۃ نازعات میں مسلمانوں کی ترقی کے ذرائع کی طرف اشارہ اس جگہ اللہ تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ ہم اسی دنیا میں مسلمانوں کی ترقی کے سامان کریں گے اور مسلمانوں کی یہ ترقی اس بات کا ثبوت ہو گی کہ اگلے جہان کے متعلق اللہ تعالیٰ کے جو وعدے ہیں وہ بھی ایک دن پور ے ہو کر رہیں گے چنانچہ اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اس دَورِ ترقی کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں اور پھر جنگوں کی بھی خبر دی ہے گویا بتایا کہ تم جو پوچھتے ہو کہ مسلمانوںکو کس طرح ترقی حاصل ہو گی اس کا جواب یہ ہے کہ جنگیں ہوں گی اور یہ لوگ تم پر غلبہ و اقتدار حاصل کریں گے۔گویا بتایا کہ مسلمان اپنی اندرونی اصلاح کے بعد اُسی ہتھیار کی طرف توجہ کریں گے جو آج اُن کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔اب تو تم ان پر تلوار سے حملہ کر رہے ہو۔انہیں دُکھوں پر دُکھ اور تکلیفوں پر تکلیف دیتے چلے جاتے ہو اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت صبر سے کام لے رہے ہیں تمہارے خلاف اپنا ہاتھ نہیں اٹھاتے مگر ایک دن آئے گا جبکہ یہ دیکھتے ہوئے کہ تم مسلمانوں پر حملہ کرنے سے باز نہیں آ رہے تلوار کا تلوار سے مقابلہ کرنے کا