تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 95

مگربہرحال ان قوموں کے دلوں میں باریک طورپریہ حسّ پائی جاتی ہے کہ خدا نے ہم کو دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لئے پیدا کیاتھا۔باقی لوگ اپناحصہ لے چکے مگرہم نے اس دوڑ میں اپنا حصہ نہیں لیا ہمیں دنیا نے دھتکار رکھا ہے ہمیں اس نے فوائد سے محروم کردیا ہے۔وہ اور اس کی نسلیں فائدہ اٹھارہی ہیں مگرہمیں فائدہ ا ٹھانے کاکوئی موقعہ نہیں دیاجاتا۔یہ وہ خیال ہوتاہے جو ان قوموں کے دلوں میں بغیر کسی خاص احساس کے یابغیر کسی معین صورت کے اندر ہی اند رپیدا ہوتارہتاہے۔جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی نبی کے ذریعہ یہ آواز بلندہوتی ہے کہ میں دنیا کی گری ہوئی قوموں کوترقی کی بلندیوں پر پہنچانے کے لئے آیاہوں توان قوموں کے اند ر ایک خلش سی پیداہوجاتی ہے ایک بے چینی سی رونماہوجاتی ہے۔ایک اضطراب سا ان کی حرکات سے ظاہرہونے لگتاہے وہ کہتی ہیں ہماری امیدوں کے برآنے کا وقت آگیا۔ہماری نحوستوں کے دور ہونے کا زمانہ آگیا۔آئو ہم اس نبی کوقبول کرکے دنیا پرحکمرانی کریںاوراپنے کھوئے ہوئے حق کوحاصل کرنے کی جدوجہد کریں۔وہ زمین جس میں ایک لمبے عرصہ تک ہل چلایاجاتاہے۔جومختلف قسم کی سبزیاں پیداکرتی ہے جومختلف قسم کے پھل اور پھول تیارکرتی ہے بیشک اس کی روئیدگی انسانی آنکھوںکو تراوت بخشتی ہے۔اس کے پھل انسانی غذا کے کام آتے ہیں۔اس کے پتے جانوروں کی بھوک مٹانے کاکام دیتے ہیں مگراس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ایک لمبے استعمال کی وجہ سے اپنی طاقت کو کھوبیٹھتی ہے۔لیکن اس کے پاس کی پڑی ہوئی زمین جو ابھی استعمال میں نہیں آئی ہوتی وہ اس بات کی زیادہ اہل ہوتی ہے کہ اس میں بیج بویاجائے اوراس سے اعلیٰ درجہ کی پیداوار حاصل کی جائے۔اچھا فلّاح ہمیشہ اس زمین کی طرف جاتاہے جوخالی پڑی ہو۔اس زمین کی طرف نہیں جاتا جسے ہزاروںسال سے بویاجارہاہو۔کیونکہ وہ جانتاہے اب مجھے اس استعمال شدہ زمین سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔مجھے اگر فائدہ ہوگاتو اس زمین سے جو بظاہر بنجر ہے۔جوبظاہر ویران ہے۔جوبظاہر غیرآباد ہے۔بیشک اس پر محنت زیادہ ہوگی۔مگراس کی فصل دوسری زمینوں سے زیادہ بہترہوگی۔نادان لوگ گائوں کی مہنگی زمین خریدتے ہیں۔لیکن ہوشیار زمیندار مربعوں والی زمین خریدتاہے نتیجہ یہ ہوتاہے کہ گائوں کی زمینوں کے مالک بعض دفعہ ڈیڑھ ڈیڑھ دودوسو ایکڑ زمین اپنے پاس رکھتے ہیں مگران کی تہ بند پھٹی ہوئی ہوتی ہے۔ان کے جسم پر پوری چادر بھی نہیں ہوتی۔لیکن ایک دوسرا شخص عمدہ لباس پہنے ہوئے ہوتاہے۔اچھاکھاتاپیتاہے اورکہا جاتاہے کہ یہ بڑے زمیندار ہیں مگرا س کے پاس صرف ایک مربع زمین ہوتی ہے۔حالانکہ ایک مربع کے معنے ہیں صرف ’۲۵ ‘ ایکڑ۔لیکن باوجوداس کے اس کے پاس صرف ’۲۵‘ایکڑ زمین ہوتی ہے اور دوسرے کے پاس چھ گنازیادہ ز مین ہوتی ہے۔وہ غربت میں اپنی زندگی