تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 468
وہ سارے کے سارے گھٹنوں کے بل جھک گئے اورانہوں نے خدا تعالیٰ سے دعاکی۔اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کردیئے۔کہ جرمن سپاہیوں کو خبرتک نہ ہوسکی کہ ان کے سامنے فوج کی صف ٹوٹ چکی ہے۔اس وقت کمانڈر انچیف نے اپنے سٹاف کے ایک افسر کوبلایااو راسے کہاکہ اس وقت یہ حالت ہے اورسوائے تمہارے مجھے کوئی ایساافسر نظر نہیں آتاجواس کاانتظام کرسکے۔پس تم جائو۔اورمجھ سے دوسراسوال نہ کرو۔ایسے موقعہ پر وہ کہہ سکتاتھا کہ عجیب مصیبت ہے۔فوج تودی نہیں جاتی مگر کہاجاتاہے دشمن کامقابلہ کرو۔مگروہ افسر بھی سمجھ گیا کہ اس وقت فوج کامہیاہونا ناممکن ہے۔اس نے موٹر لی اور سیدھا اس مقام پر پہنچا جہاں باورچی۔نانبائی۔دھوبی۔موچی۔درزی اورمہتر وغیرہ تھے اورانہیں کہاکہ تمہارے دلوں میں حسرت پیداہوتی ہوگی کہ ہمیں ملک کے لئے لڑنے کاموقعہ کبھی نہیں دیاگیا۔لیکن آج تمہارے لئے ایک موقعہ پیداہوگیا ہے۔ہماری صف ٹو ٹ چکی ہے اورملک کی نگاہ اس وقت تم پر پڑرہی ہے کہ تم آگے بڑھواور صف بندی کردو۔اس پر جوکچھ کسی کے ہاتھ آیا لے کر چل پڑااورجاکر صف بندی کردی اور یہ نظر آنے لگاکہ فوج کھڑی ہے اس طرح چوبیس گھنٹے تک مقابلہ کیاگیا۔یہاں تک کہ دوسرے علاقوں سے فوج سمیٹ کر وہاں جمع کردی گئی۔یہ مادہ پرستوںکا ایک نظارہ ہے۔جب خداکے سواانہیں کوئی مدد کرنے والانظر نہیں آتاتو اس وقت وہ بھی خداکے قائل ہوجاتے ہیں۔لیکن جب مصیبت ٹل جاتی ہے توپھر و ہ اللہ تعالیٰ کوبھول جاتے ہیں۔اوراس کامیابی کواپنی تدبیر اور زور بازو کی طرف منسوب کرناشروع کردیتے ہیں۔یا اسے بعض دیوتاؤں کی طرف منسوب کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یہ لوگ آخر کب تک ایساکرتے چلے جائیں گے۔بیشک ہم انہیں ایک عر صہ تک توبہ کاموقعہ دیتے ہیں۔اوراس کے نتیجہ میں وہ دنیوی سامانوںسے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔لیکن ایک دن وہ ان مواقع سے بھی محروم ہوجائیں گے اورپھر دیکھ لیں گے کہ ان کاکوئی جھوٹامعبود ان کی مد د نہیں کرسکے گااوروہ عذاب کی طوفانی موجوں سے رہائی کی کوئی صورت نہیں پائیں گے۔اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ يُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ کیاانہیں معلوم نہیں کہ ہم نے حرم(یعنی مکہ)کوامن کی جگہ بنادیاہے۔اوران لوگوں کے ارد گردسے (یعنی مکہ کے حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ۠ يُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ۰۰۶۸ باہرسے) لوگ اچک لئے جاتے ہیں توکیا وہ جھوٹ پر تو ایمان لاتے ہیں اوراللہ(تعالیٰ) کی نعمت کاانکار کرتے ہیں؟ تفسیر۔توحید باری تعالیٰ کے ثبوت میں اللہ تعالیٰ نے پہلے توفطرت انسانی کی شہادت کوپیش کیاتھااور