تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 461
وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْيَا بِهِ اوراگرتُوان سے پوچھے کہ بادل سے کس نے پانی اتار اہے؟ اورپھر اس کے ذریعہ سے زمین کواس کے مرنے کے الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بعد زندہ کیاہے؟تووہ کہیں گے۔یقیناً اللہ نے۔تُو کہہ دے کہ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے۔لیکن ان بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَؒ۰۰۶۴ (یعنی انسانوں)میں سے اکثر سمجھتے نہیں۔تفسیر۔اس میں بتایاکہ وہ اقوام جن سے تمہار امقابلہ ہوگا وہ وحی والہام کی بھی منکر ہوں گی اس لئے تم ان سے پوچھو کہ آسمان سے کون پانی نازل کرتا اورمردہ زمین کو زندہ کرتاہے ؟ وہ اس کے جواب میں بے ساختہ یہی کہیں گے کہ اللہ۔تم کہو کہ الحمد للہ جوخداہمیشہ مردہ زمین کو آسمانی بارش سے زندہ کرتاچلاآیاہے۔اس نے اب بھی دنیا کی پکار سنی اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودنیا کی نجات کے لئے بھیج دیا۔یہ کتنے بڑے شکر کا مقام ہے کہ تاریک دنیا کوروشن کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک سورج چڑھادیا۔مردہ زمین کوزندہ کرنے کے لئے اس نے ایک بہت بڑارحمت کابادل بھجوادیا جواتنی شان سے برساکہ پیاسی دنیا سیراب ہوگئی اورمردہ زمین نے بھی روئید گی پیداکر نی شروع کردی۔خدا تعالیٰ کے اتنے بڑے انعام او راحسان کودیکھتے ہوئے ان لوگوں کوچاہیے تھا کہ دوڑتے ہوئے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس پہنچتے اورآپؐ کو قبول کر کے آسمانی بارش سے فیضیاب ہوتے اوراپنے حوضوں اورتالابوں کو بھر لیتے مگرانہوںنے عقل سے کام نہ لیا۔مردار دنیا پر گرکر رہ گئے۔اوردنیوی مال و متاع انہیں اس دولت سے زیادہ اچھا دکھائی دینے لگا۔گویاٹھیکریوں کو تو انہوں نے لے لیااور ہیروںاورجواہرات کو پھینک دیا۔آسمان سے بار ش نازل ہونے کی مثال دے کر کفار کواس امر کی طرف بھی متو جہ کیاگیاہے کہ جب آسمان سے بارش نازل ہوتی ہے توزمین اپنی ہرقسم کی روئید گی کوظاہر کرناشروع کردیتی ہے۔مگریہ روئیدگی یکساں نہیں ہوتی۔کئی گھاس اور پودے صرف نصف انچ یا ایک انچ تک ہی رہ جاتے ہیں۔اور کئی چھوٹی چھوٹی سبزیاں ترقی کرکے اتنا بڑادرخت بن جاتی ہیں کہ سینکڑوں آدمی اس کے سایہ کے نیچے آرام کرسکتے ہیں۔ابتدائی حالت میں وہ بالکل یکساں