تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 453
ہیں۔اگرایک مکھی شہد بناتی ہے اس لئے کہ لو گ لے جائیں اوراس سے بیماریاںدو ر ہوں۔جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فِیْہِ شِفَآئٌ لِّلنَّاسِ (النحل :۷۰)اس میں لوگوں کے لئے شفاء ہے۔یاپھر ایک مکھی شہد بناتی ہے اوربناتی چلی جاتی ہے اورلوگ اس کے پاس شہدنہیں رہنے دیتے وہ ہمیشہ اڑالے جاتے ہیں اوروہ مکھی پھر بھی شہد بنانانہیں چھوڑتی۔توکیا انسان ہی ایساضعیف ہے کہ وہ اس طرح مایوس ہوجائے جوشخص اپنی کوشش میں ناکام ہوجانے کے بعد ہمت چھوڑ بیٹھتاہے وہ آدمی نہیں بلکہ وہ مکھیوں سے بھی بد تر ہے۔دنیا کی فتح کوئی معمولی چیز نہیں۔اس کے لئے بڑی بھاری قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا۔چنانچہ جب آپؐ نے دیکھا کہ مکہ میں رہنا ناقابل برداشت ہوگیا ہے توآپؐ نے صحابہؓ کو جمع کیااور فرمایاتم کسی اورجگہ چلے جائوجہاں دین کے بارہ میں ظلم نہ ہواور تم امن سے خدا تعالیٰ کانام لے سکو۔صحابہؓ نے آپؐ سے پوچھا۔یارسول اللہ وہ کونسی جگہ ہے۔آپؐ نے حبشہ کی طرف اشارہ کیا اورفرمایا۔وہاں عیسائیوں کی حکومت ہے اگرتم وہاں چلے جائو توتم پر دین کے بارہ میں کوئی سختی نہیں ہوگی۔پس مومن کافرض ہے کہ جہاں وہ خداکے لئے اپنے وطنوں کو خیر بادکہنے کے لئے ہمیشہ تیار رہاکریں وہاں باہرجاکرروحانی نوآبادی قائم کرنے کے اشتیا ق کابھی پوراپورامظاہر ہ کریں تاکہ ان کاوجود ایک امت کی طرح ہو اوروہ ایک دوکو نہیں بلکہ امت کی امت کو اسلام اورمحمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل کریں۔وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ اوروہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اوراس کے مطابق عمل بھی کرتے ہیں ہم ان کو جنت میں بالاخانوں میں جگہ دیں گے الْجَنَّةِغُرَفًا تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ (ایسی جنت میں)کہ اس کے (سایوں )تلے نہریں بہتی ہوں گی۔وہ (یعنی مومن)ان جنتوں میں ہمیشہ کے لئے رہتے نِعْمَ اَجْرُالْعٰمِلِيْنَۗۖ۰۰۵۹الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى چلے جائیں گے اوراچھے عمل کرنے والوں کااجر بہت اچھا ہوتاہے۔ان (مومنوں)کاجو(اپنے عقیدہ اورعمل پر)