تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 445
آئیں جوتین تین میل تک گولی پھینکتی ہیں۔اورایک منٹ میں تین تین سوچارچار سوفائرکردیتی ہیں۔پھرایسی توپیں نکل آئیں جوچلتے ہوئے ہوائی جہاز وں اور ٹینکوںکوبھی تباہ کرسکتی ہیں۔پھر بم نکلااوربم پھینکنے سے صرف قریب کے لوگوں کو نقصان پہنچایاجاسکتاتھا لیکن بعد میں ایسی رائفلیں نکل آئیں جن کے ساتھ وہی بم دور تک پھینکا جاسکتاتھا۔پھرتوپوں کے ساتھ پھینکنے والے بم ایجاد ہوئے پھر ایٹم بم نکلا جوحجم کے لحاظ سے چھوٹے سائز کاہوتاہے۔لیکن نقصان پہنچانے میں دوسرے بموںکو مات کرگیا ہے۔اورمیلوں تک اثر کرتاہے۔اب Hبم نکلا ہے اورکوبلٹ بم کے متعلق بھی معلوم کرلیاگیاہے کہ وہ تیار کیاجاسکتاہے۔پھر پہلے کوئی آدمی خندق میں چھپ جاتاتھاتو وہ بم کے اثرا ت سے بچ سکتاتھا۔لیکن اب ایسے ذرائع معلوم کرلئے گئے ہیں کہ جن کی وجہ سے بموں کی گرمی اور اثر سال سال تک باقی رہتاہے۔اورخندق میں چھپاہواآدمی جب بھی نکلے گا موت کا شکار ہوجائے گا۔غرض دنیا میں نت نئی ایجادیں ہوتی چلی جاتی ہیں پھر کیاخدا کاکلام ہی اتنا کمزور تھا کہ اس میں سے نئی چیزیں نہ نکل سکتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آکرلوگو ں کو بتایاکہ کلام الٰہی کے خزانے ختم نہیں ہوگئے بلکہ جس طرح قانونِ قدرت کے خزانے ختم نہیں ہوتے اسی طرح کلام الٰہی کے خزانے بھی ختم نہیں ہوتے۔اوریہ خیال کرلینا سخت حماقت ہے کہ کوئی شخص اس کے نئے مطالب بیان نہیں کرسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ ہرزمانہ کی ضرورت کے مطابق اس کے نئے نئے معانی اورمطالب نکلتے آئیں گے کیونکہ یہ مجید خدا کانازل کردہ کلام ہے جو کُلَّ یَوْمٍ ھُوَفِیْ شَاْنٍ کامصداق ہے۔جب نئے معنوں میں یہ چیز یںپائی جاتی ہوں کہ قرآنی آیات ان کی مصدّق ہوں۔فطرت انسانی ان کی تصدیق کرے اورپھر لغت عرب بھی ان کے خلاف نہ ہوتووہ ٹھیک ہوں گے۔اگران کو غلط کہا جائے تویہ ایسی ہی بات ہوگی جیسے کسی بیوقو ف کے متعلق کہاجاتاہے کہ وہ جنگ میںزخمی ہوگیا وہ بزدل تھااسے باوجود زخمی ہونے اورخون دیکھنے کے یہ شک تھا کہ شاید زخم نہیں ہوا۔وہ بھاگتاجاتاتھا اورکہتاجاتاتھا کہ یااللہ یہ خواب ہی ہو۔یااللہ ! یہ خواب ہی ہو۔اب یہ کتنی حماقت کی بات ہے کہ زخم ہوچکا ہے اوراس سے خون بہہ رہاہے۔مگروہ کہتاجاتاہے کہ یہ خواب ہی ہو۔اسی طرح قرآن کریم نے ہمیں چودہ سو سال پہلے سے بتادیا ہے کہ قرآنی آیات کے نئے نئے معانی زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے نکلتے رہیںگے۔اگروہ معنے لغت عر ب کے مطابق ہیں اوردوسری قرآنی آیات اس کی مصدّق ہیں یاکم از کم اس کو ردّنہیں کرتیںتووہ غلط کیسے ہوسکتے ہیں۔ہم نے تویہ دیکھنا ہے کہ آیا وہ معیار پر ٹھیک اترتے ہیں یا نہیں۔مثلاًکیا وہ عقل کے خلاف تونہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ میں نے ہی عقل کو پیدا کیا ہے اورایک ہی منبع سے نکلنے والی دوچیز یں متضاد