تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 433

لئے انہوں نے یو۔این۔او کی طرح یہ انتظام کیاہواتھا کہ میری انگریزی تقریر ریڈیوکے ذریعہ مختلف کمروں میں جاتی۔جہاں مختلف قوموں کے علماء بیٹھے ہوئے تھے اوروہ ترجمہ کرکے فوراً اس زبان میں اسے ریلے کردیتے تھے۔ہرزبان کے جاننے والے نے اپناآلہ اپنے کانوں کو لگایاہواتھا جس کے ذریعہ سے وہ ساتھ ساتھ میری انگریزی کی تقریرکواپنی زبان میں سنتاجاتاتھا۔میری تقریر کے بعد بہت سے سوالات ہوئے۔جن میں سے ایک سوال یہ تھا۔کہ آپ نے جو اسلام کی باتیں بتائی ہیں۔یہ تووہی ہیں جو عیسائیت اوریہودیت پیش کرتی ہے۔پھر یہ کیا جھگڑانظرآتاہے کہ مسلمان عیسائیوں کوبرابھلاکہتے ہیں اورعیسائی مسلمانوں کوبرابھلاکہتے ہیں۔یہودی عیسائیوں اورمسلمانوںکو برا سمجھتے ہیں اورعیسائی اورمسلمان یہودیوں کوبراسمجھتے ہیں۔گویادنیا نہ موسیٰ ؑ کے خدا کومانتی ہے نہ عیسیٰ ؑ کے خدا کومانتی ہے۔اورنہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کومانتی ہے ایسی صورت میں ان جھگڑوں کے تصفیہ کے لئے سب مل کریہ کیوں نہیں طے کرلیتے کہ سب لوگ ایک خدا کومانیں اس کی سچے دل سے عبادت کریں اور اپنے اپنے مذہب پر قائم رہیں۔میں نے کہا۔مجھے یہ سوال سن کر بڑی خوشی ہوئی کیونکہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوآج سے تیرہ سوسال پہلے اللہ تعالیٰ نے ان جھگڑوں کے تصفیہ کا یہی طریق بتایاتھا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایاتھا۔قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْـًٔا(اٰل عمران :۶۵) یعنی اے اہل کتاب آئو میں تمہیں ایک کلمہ پر جمع ہونے کاطریق بتائو ں۔جو تمہارے نزدیک بھی مسلّمہ ہے اورہمارے نزدیک بھی مسلّمہ ہے۔وہ طر یق یہ ہے کہ ہم سب ایک خدا کی عبادت کریں اوراس کے ساتھ کسی کو شریک قرارنہ دیں۔تیرہ سوسال ہوئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ علاج بتایاتھا اور تمام اہل کتاب کواس اصل کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔مگرتمہارے باپ دادانے قرآن کریم کی اس دعوت کو قبول نہ کیا۔پس بجائے ہم سے سوال کرنے کے تم اپنے باپ داداکاشکوہ کرو۔اوراپنے بزرگوں سے کہو کہ جب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی اچھی تعلیم پیش کی تھی توتم نے اسے قبول کیو ں نہ کیا اوراپنا منہ کیوں پھیر لیا۔بہرحال اس اتحاد کے نہ ہونے کاالزام اگرآتاہے۔توتمہارے باپ داداپر آتاہے۔ورنہ تیرہ سوسال سے قرآن کریم میں یہ بات موجود ہے اب اگرتمہیں کوئی شکوہ ہے تواپنے باپ داداسے شکوہ ہوناچاہیے۔ہم سے نہیں ہوناچاہیے۔