تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 389
سواللہ تعالیٰ نے ان کی تسلی کے لئے یہ تدبیر کی کہ ارد گرد کے بعض نیک لوگوں کو الہام کیا کہ لوطؑ کے پاس جائو اوران کوبتادو کہ ان کی قوم پر عذاب آنے والا ہے اورانہیں حفاظت کے ساتھ کسی محفوظ مقام تک پہنچادو۔کیونکہ وہ اس علاقہ کے واقف نہیں۔اس جگہ سوال پیدا ہوتاہے کہ کیاکبھی پہلے بھی ایساہواہے کہ نبی کو توپتہ نہ لگاہو کہ میری قوم ہلاک ہونے والی ہے لیکن دوسروں کوعلم ہوگیا ہو۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سوال قلّت تدبّر کانتیجہ ہے کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام اپنی قوم کو پہلے سے عذاب کی خبر دے چکے تھے۔چنانچہ سورئہ حجر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب وہ رسول آپ کے پاس آئے توانہو ں نے کہا کہ بَلْ جِئْنَاکَ بِمَاکَانُوْافِیْہِ یَمْتَرُوْنَ (الحجر:۶۴)ہم آپ کے پاس اس عذاب کی خبر لے کر آئے ہیں جس کے بارہ میں یہ لوگ شک کررہے ہیں۔گویاوہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ عذاب کی خبرحضرت لوط علیہ السلام پہلے ہی دے چکے تھے۔مگر چونکہ یہ عذاب اب بالکل قریب آپہنچا تھااس لئے اللہ تعالیٰ نے اس علاقہ کے چند نیک لوگوں کواس لئے آپ کے پاس بھیجاکہ وہ حضرت لوط علیہ السلام کواپنے ساتھ لے کر کسی محفوظ مقام پرپہنچادیں۔اگراللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے ماتحت یہ انتظام نہ فرماتاتوحضرت لوط علیہ السلام کو بڑی پریشانی ہوتی کہ اب جب اس شہر پر عذاب آنے والا ہے تومیں کہاںجاؤ ں۔جبکہ باقی علاقہ میں میری واقفیت بھی کوئی نہیں۔اورپھر ارد گرد سب سدوم کے دشمن آباد ہیں۔اسلام میں بھی اس قسم کی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ بعض اہم معاملات کی دوسرے مسلمانوں کو خبردی گئی۔مثلاً رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میںحضرت عبداللہ بن زیدؓ ایک صحابی تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کورؤیاکے ذریعہ سے اذان سکھائی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی کی رؤیاپرانحصار کرتے ہوئے مسلمانوں میں اذان کارواج ڈالا۔بعد میں قرآنی وحی نے بھی اس کی تصدیق کردی۔حضرت عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بھی خدا تعالیٰ نے یہی اذان سکھائی تھی۔مگربیس دن تک میں خاموش رہا۔اس خیال سے کہ ایک اَورشخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بیان کرچکا ہے(سنن ابی دائود جزواول مطبوعہ مصر ص۸۰،۸۱ وسنن ابن ماجہ جزواول ص ۲۴۰،۲۴۱مطبوعہ مصر) اسی کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی اشارہ کرتی ہے کہ اَلْمُؤْمِنُ یَرٰی اَوْ یُرٰی لَہٗ (السنۃ لابن ابی عاصم الجزء الاول صفحہ ۲۱۴)۔یعنی مومن کوکبھی توبراہ راست خبر دی جاتی ہے اور کبھی دوسروں کی معرفت اسے خبرپہنچائی جاتی ہے۔پس حضرت لوط علیہ السلام کوبعض دوسرے لوگوں کے ذریعہ عذاب کے بالکل قریب آجانے کی خبرپہنچاناکوئی قابل اعتراض امر نہیں۔