تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 378

یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتابوں اورڈائریوں میں بھی بیان فرمایا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ ایک دوست کاخط حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خد مت میں پیش ہواکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پرجوآگ ٹھنڈی ہوگئی تھی آیا وہ فی الواقعہ آتشِ ہیزم تھی یافتنہ و فساد کی آگ تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔’’ فتنہ وفساد کی آگ توہرنبی کے مقابل میں ہوتی ہے اور وہی ہمیشہ کوئی ایسارنگ اختیار کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک معجزہ نماطاقت اپنے نبی کی تائید میں اس کے بالمقابل دکھاتاہے۔ظاہری آتش کاحضرت ابراہیم علیہ السلام پر فروکردینا خدا تعالیٰ کے آگے کوئی مشکل امر نہیں اور ایسے واقعات ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ان واقعات کی اب بہت تحقیقات کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ہزاروں سالوں کی بات ہے۔ہم خود اس زمانہ میں ایسے واقعات دیکھ رہے ہیں اوراپنے اوپرتجربہ کررہے ہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے جبکہ میں سیالکوٹ میں تھاتو ایک د ن بارش ہورہی تھی۔جس کمرہ کے اند ر میں بیٹھاہواتھا اس میں بجلی آئی۔ساراکمرہ دھوئیں کی طرح بھر گیا اور گندھک کی سی بُوآتی تھی۔لیکن ہمیں کچھ ضررنہ پہنچا۔اسی وقت وہ بجلی ایک مندر میںگری جوکہ تیجاسنگھ کامندر تھا اوراس میں ہندوئو ں کی رسم کے مطابق طواف کے واسطے پیچ درپیچ اردگرد دیوار بنی ہوئی تھی اوروہ اندربیٹھاہواتھا۔بجلی ان تمام چکروں میں سے ہو کر اند رجاکر اس پر گری اورو ہ جل کرکوئلہ کی طرح سیاہ ہوگیا دیکھووہی بجلی کی آگ تھی جس نے اس کو جلادیا۔مگرہم کو کچھ ضرر نہ دے سکی۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہماری حفاظت کی۔ایسا ہی سیالکوٹ کاایک اَورواقعہ ہے کہ ایک دفعہ رات کو میں ایک مکان کی دوسری منز ل پرسویا ہواتھا اوراسی کمر ہ میں میرے ساتھ پندرہ سولہ اورآدمی بھی تھے۔رات کے وقت شہتیر میں ٹک ٹک کی آواز آئی۔میں نے آدمیوں کو جگایا کہ شہتیر خوفناک معلوم ہوتاہے یہاں سے نکل جاناچاہیے۔انہوں نے کہا کوئی چوہاہوگا۔کچھ خوف کی بات نہیں اوریہ کہہ کر پھر سوگئے تھوڑی دیر کے بعد پھر ویسی ہی آواز سنی۔تب میں نے ان کودوبارہ جگایا۔مگرپھر بھی انہوں نے کچھ پرواہ نہ کی۔پھر تیسر ی بار شہتیر سے آواز آئی۔تب میں نے ان کو سختی سے اٹھایا۔اورسب کومکان سے باہر نکالا اور جب سب نکل گئے توخود بھی وہاں سے نکلاابھی میں دوسرے زینہ پرتھا کہ وہ چھت نیچے گری اوردوسری چھت کو بھی ساتھ لے کر نیچے جاپڑی اورچارپائیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں اورہم سب بچ گئے۔