تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 34

بدر کی جنگ میں جو صحابیؓ شہید ہوئے تھے ان صحابیوںؓ نے دنیا کاکون ساسکھ دیکھا تھا۔انہوں نے اپنے ماں باپ کو چھوڑا اوراپنے رشتہ داروںکوچھوڑااپنے ساتھیوںکو چھوڑا اورپھر تیرہ برس تک کفار کے سخت ترین مظالم کا نشانہ بننے کے بعد ایک دُکھتے ہوئے دل کے ساتھ،ایک رِستے ہوئے زخم کے ساتھ انہوں نے مکہ کو بھی چھوڑدیا اس امید کے ساتھ کہ انہیں پھر مکہ کی زیارت نصیب ہوگی۔مگرابھی ہجرت پر ڈیڑھ سال بھی نہیں گذراتھاکہ وہ اپنے وطن سے دور۔پرانے وطن سے بہت دور اورنئے وطن سے بھی میلوں دور ایک تپتے ہوئے ریت کے جنگل میں کفار کی تلوار سے کٹ کٹ کر تڑپنے لگ گئے۔ان کے سر ایک طر ف تھے اوردھڑ دوسر ی طرف۔اگریہ لو گ بھی یہی کہتے کہ ہم نے قربانی کرکے کیا لینا ہے۔پھل تودوسرے لوگوں نے کھانا ہے تواسلام کو وہ شان و شوکت جو بعد میں اسے حاصل ہوئی کہاں حاصل ہوسکتی تھی۔اسی طرح جنگ اُحدکا ایک واقعہ ہے۔جنگ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی ابن کعبؓ کو فرمایا کہ جائو اورزخمیوں کو دیکھو۔و ہ دیکھتے ہوئے حضرت سعد بن ربیعؓ کے پاس پہنچے جو سخت زخمی تھے اور آخری سانس لے رہے تھے۔انہوں نے ان سے کہا کہ اپنے متعلّقین اور اعزّاء کو اگر کوئی پیغام دینا ہوتو مجھے دے دیں۔حضرت سعدؓ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں منتظر ہی تھاکہ کو ئی مسلمان ادھر آئے توپیغام دوں۔تم میرے ہاتھ میں ہاتھ دےکر وعدہ کرو کہ میراپیغام ضرور پہنچادو گے۔اوراس کے بعد انہوں نے جو پیغام دیا و ہ یہ تھاکہ میرے بھائی مسلمانوںکو میراسلام پہنچا دینا اورمیری قوم اور میرے رشتہ داروں سے کہنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس خدا تعالیٰ کی ایک بہترین امانت ہیں۔اورہم اپنی جانوں سے اس امانت کی حفاظت کرتے رہے ہیں۔اب ہم جاتے ہیں اور اس امانت کی حفاظت تمہارے سپر د کرتے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ تم اس کی حفاظت میں کمزوری دکھائو(السیرۃ الحلبیۃ جلد ۲ غزوۃ احد)۔دیکھو ایسے وقت میں جب انسان سمجھتاہوکہ میں مررہاہوں۔کیا کیا خیالات اس کے دل میں آتے ہیں۔وہ سوچتاہے میری بیوی کاکیاحال ہوگا۔میرے بچوں کو کون پوچھے گا۔مگراس صحابیؓ نے کوئی ایسا پیغام نہ دیا۔صرف یہی کہا۔کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے ہوئے اس دنیا سے جاتے ہیں تم بھی اسی راستہ سے ہمارے پیچھے آجائو۔ان لوگوں کے اند ریہی ایمان کی طاقت تھی جس سے انہوں نے دنیا کو تہ و بالاکردیا اورقیصروکسریٰ کی سلطنتوں کے تختے الٹ دیئے۔قیصر روم حیران تھا کہ یہ کو ن لوگ ہیں۔کسریٰ نے اپنے سپہ سالار کو لکھا کہ اگر تم ان عربوں کو بھی شکست نہیں دے سکتے توپھر واپس آجائو اورگھر میں چوڑیاں پہن کر بیٹھو۔یہ گوہیں کھانے والے لوگ ہیں ان کوبھی تم نہیں روک سکتے۔اس نے جواب دیا کہ یہ توآدمی معلوم ہی نہیں