تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 33
نظر آتاہے کہ پاس بیٹھے ہوئے دوست کے بچہ کو ذراپچکار دیں یااسے کھانے کے لئے کوئی چیز دےدیں توتھوڑی دیر کے بعد ہی اس کاباپ اس سے محبت کی باتیں کرنے لگ جاتاہے کہ گویا وہ اس کا بہت پرانا دوست ہے۔یہی طریق روحانی دنیا میں بھی جاری ہے۔جب انسان بنی نوع انسان کی بھوک اور ان کے افلاس کودورکرنے کے لئے اپناروپیہ خرچ کرتاہے تو خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ چونکہ یہ میرے پیاروں کی خدمت کرتاہے اس لئے اسے بھی میرے پیاروں میں داخل کرلیا جائے۔حدیثوں میں آتاہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعض لوگوں سے کہے گا کہ دیکھو میں بیمار تھا مگر تم لوگ میری عیادت کے لئے نہ آئے۔میں بھوکاتھا۔مگرتم نے مجھے کھانا نہ کھلا یا۔میں ننگا تھا۔تم نے مجھے کپڑا نہ دیا۔اس پر وہ بندے کہیں گے کہ اے ہمارے رب!توکس طرح بیمار ہوسکتاتھا یاتوکس طرح بھوکااورننگاہو سکتاتھا تُوتو ان تمام نقائص سے منزہ ہے۔ا س پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جب میرے بندوں میں سے بعض لوگ بیمار تھے یا بعض لوگ بھوکے اورننگے تھے اور تم نے ان کی تیمار داری نہ کی۔نہ انہیں روٹی کھلائی اورنہ ان کا ننگ ڈھانکنے کے لئے انہیں کپڑادیا توتم نے انہیں ان چیزوں سے محروم نہیں کیا بلکہ مجھے محروم کیا (مسلم کتاب البر و الصلة باب فضل عیادة المریض)۔پس زکوٰۃ اسلام کا ایک اہم ترین رکن ہے جس کو نظر انداز کرنا انسان کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کامورد بنادیتاہے۔کیونکہ ایساانسان غرباء کے حقوق کو نظر انداز کرنے والاہوتاہے۔پھر فرماتا ہے مومنوں کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ۔وہ آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔یعنی وہ قربانیاں کرتے اورکرتے چلے جاتے ہیں۔اوراس امر کی کوئی پرواہ نہیں کرتے کہ ان قربانیوں کا پھل انہیں زندگی میں بھی ملتاہے یا نہیں ملتا۔کیونکہ وہ آنے والی زندگی پر یقین رکھتے ہیں اوریہ یقین ان کے اندر اتنی جرأت پیداکردیتاہے کہ وہ قربانیوں کی آگ میں اپنے آپ کو بلادریغ جھونک دیتے ہیں۔دنیا میں بھی جب ایک سپاہی لڑائی میں جاتاہے توآخر کون سے فائدہ کے لئے جاتاہے۔ہر شخص سمجھتاہے کہ میں ماراجائوں گا اوربسا اوقات وہ ماراجاتاہے مگرفائدہ اس کی قوم اٹھاتی ہے۔اسی طرح ماں جب اپنے بچے کو اپنا خون چوسارہی ہوتی ہے تواسے کیا فائدہ حاصل ہورہاہوتاہے۔دودھ کاایک ایک گھونٹ ماں کے خون سے بنتاہے۔اس لئے ایک ایک گھونٹ جو بچے کے گلے سے اترتاہے وہ درحقیقت ماں کا خون ہوتاہے جسے وہ چوستاہے۔اگرتمہاری ماں تمہارے منہ میں اپنا دودھ نہ ڈالتی۔اگرتمہاری ماں بھی یہی کہتی کہ میں اپنا خون کیوں چوسنے دوں توتم زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔تمہاری ماں نے تمہیں اپنا خون دیا اس لئے کہ تم زندہ رہو۔اب تمہاراکام یہ ہے کہ تم اپنا خو ن گرائو تاکہ تمہاری اولاد اور تمہاری قوم اور تمہاراملک زندہ رہے۔