تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 348

اس کی آخری تنخواہ کانصف ہوتاہے۔لیکن اللہ تعالیٰ چونکہ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن ہے۔اس کے انعام سے دوسروں کاحق نہیںماراجاتا اوروہ جوکچھ دیتا ہے اپنی ملکیت سے دیتاہے۔اس نے جزاء نیک کے بارہ میں دنیا کے ا س قاعدہ کے خلاف یہ قاعدہ مقررکررکھاہے کہ جوشخص مرتے ہوئے نیک ہواورایمان پرجان دے اس کا درجہ وہ نہیں سمجھاجائے گا جوموت کے وقت اسے حاصل تھا بلکہ اس کا وہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ سمجھاجائے گا جو اس کی زندگی میں کسی وقت اسے حاصل ہواہو۔مثلاً فرض کرونیکی کے دس درجے ہیں۔اورایک شخص مرتے ہوئے ساتویں درجہ پر تھا لیکن دوچار سال پہلے اسے آٹھواں یانواں درجہ حاصل تھا پھرکسی جسمانی یا دماغی کمزور ی کی وجہ سے اس کی نیکی کادرجہ گرگیا۔اوردین کی خدمت کا اسے اس قدر موقعہ نہ ملا جو اس سے پہلے ملاکرتاتھا توایسے شخص کو اللہ تعالیٰ موت کے وقت کے درجہ پرفائز نہ کرے گا بلکہ اسے اس درجہ میں رکھے گا جواسے پہلے حاصل تھا اورجوسب سے اعلیٰ تھا۔غرض انسان کو جزاء دیتے وقت ا س امر کاخیال رکھاجائے گا کہ اپنی زندگی میں کس اعلیٰ سے اعلیٰ مقام کویہ پہنچ چکا ہے۔اوربعد کے تغیر ات کو نظر انداز کرکے اس اعلیٰ درجہ کے مطابق اس سے سلوک کیاجائے گا۔اس بارہ میں قرآن کریم کی متعدد آیات ہیں جن میں سے ایک یہ آیت بھی ہے۔ظاہر ہے کہ اس آیت کے یہ معنے توہونہیں سکتے کہ جو اچھے سے اچھا عمل ہوگااس کابدلہ مل جائے گا اور دوسرے چھوڑ دیئے جائیں گے کیونکہ اس سے توبندوں کافائدہ نہیں نقصان ہے کیونکہ چھوٹے اعمال بڑے عملوں سے مل کر بدلہ کو بڑھادیتے ہیں کم نہیں کرتے۔اورخالی بڑاعمل چھوٹے عملوں سے علیحد ہ رہ کر بڑانہیں چھوٹاہوتاہے۔کیونکہ ان سے الگ ہو کر اس کی طاقت کم ہو جاتی ہے۔دس کاعدد چھ اور سات سے بڑاہے لیکن ۱۰+۶+۷ سے بڑانہیں۔جمع کی صورت میں دس کواگرچھ اور سات سے الگ کر دیاجائے تو یہ چھوٹاہوجائے گا۔پس اللہ تعالیٰ کایہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتاکہ تمہارے ادنیٰ اعمال کوہم بغیر بدلہ کے چھوڑ دیں گے اور صرف بڑے عمل کا بدلہ دیں گے۔لازماً ماننا پڑتا ہے کہ اس جگہ عام جزاکا ذکر نہیں بلکہ خاص قسم کی جزاکا ذکر ہے۔عام جزامیں تو بے شک چھوٹے سے چھوٹے عمل کوبھی ضائع نہیں کیاجائے گا۔جیساکہ فرماتا ہے فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًایَّرَہٗ۔لیکن اس جگہ جس قسم کی جزاکا ذکر ہے اس میں صرف بڑے عمل کو الگ کرلینے سے انسان کافائد ہ زیادہ ہوتاہے اور دوسرے اعمال کے ساتھ شامل کردینے سے بڑے عمل کی طاقت بھی کم ہوجاتی ہے۔جیسے ایک مصورہزاروں تصویریں بناتاہے لیکن اس کی سب تصویر یں یکساں نہیں ہوتیں۔اس کی بہت سی تصویروں میں سے کوئی بہت اعلیٰ ہوتی ہے اور کوئی درمیانی اورکوئی ادنیٰ۔اعلیٰ تصویر جو اس کے کام کا منتہاء کہلاتی ہے اورجسے انگریزی محاورہ میں ’’ ماسٹر پیس ‘‘ کہتے ہیں اس کے لئے ضروری نہیں کہ وہ انسان کی آخری