تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 347
کے معنوں کودورکرنے پردلالت کرتاہے اور کَفَّرَ کے معنے ہوںکفریاکفران نعمت کودورکرنا۔جیسے عربی زبا ن میں تَمْرِیْض کے معنے مرض پیداکرنے کے نہیں بلکہ مرض کے دور کرنے کے ہوتے ہیں۔اسی طرح تَقْذِیَۃُ الْعَیْن کے معنے آنکھ میں قَذٰی یعنی تنکاڈالنے کے نہیں ہوتے بلکہ آنکھ سے تنکا دورکرنے کے ہوتے ہیں۔اوپرکے لغات کے حوالوں سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کفارہ کے معنے مٹادینے کے بھی ہیں جس میں تین باتیں شامل ہیں (۱) گناہ کی خواہش اورعادت کومٹادینا۔(۲)گناہ کی سزا اورنتیجہ کو مٹادینا۔(۳) گناہ کی شہرت اور بدنامی کومٹادینا اسی طرح کفار ہ کے معنے بدلہ دینے یا گناہ کودورکرینے کے بھی ہیں۔تفسیر۔اس آیت میں جزائے نیک کے بار ہ میں اسلام کایہ اصول بیان کیاگیا ہے کہ جب کوئی شخص سچی توبہ کرتاہے تو خدا تعالیٰ صرف گناہ کوہی معاف نہیں کرتا بلکہ گناہ کی یاد بھی مٹادیتاہے۔یعنی جولوگ گناہ سے واقف ہوتے ہیں۔مثلاً خود گناہ گار کا اپنا وجود ہے اللہ تعالیٰ اس کے اوردوسروں کے ذہن سے اس گناہ کی یاد کومٹادیتاہے اوربدی کے نقش کو یاتودھندلاکردیتا ہے یااسے بالکل محو کردیتاہے تانفس میں شرمندگی نہ رہے اورنیکی کاجذبہ غالب آجائے۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔یعنی وہ لوگ جو سچاایمان لائے ہیں اوراپنے ایمان کے مطابق انہوں نے عمل کئے ہیں ہم ان کے گناہوں کو مٹادیں گے اوران کے اعمال میں سے بہترین اعمال کے مطابق ا ن سے سلوک کریں گے۔اس جگہ مٹادینے سے مراد ان کا فراموش کردینا ہی ہے کیونکہ جب عمل صالح کرنے والے اور کامل ایمان والوں کا ذکر ہو۔تومٹادینے کے یہ معنے نہیں ہوسکتے کہ گناہ کی عادت چھٹ جائے گی۔کیونکہ ایسا شخص عمل نیک توپہلے ہی کرنے لگ گیا ہے۔پس اس جگہ مٹانے سے مراد ان کافراموش کردینا ہی ہے تاکہ ان کی عزت پرکوئی حرف باقی نہ رہے۔لَنَجْزِیَنَّھُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ کَانُوْایَعْمَلُوْنَ سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ انسانی اعمال کی جزادیتے وقت اس کی کمزوریوں پر انعام کی بنیاد نہیں رکھے گا بلکہ اس کی اعلیٰ سے اعلیٰ حالت پر اس کی بنیاد رکھے گا۔اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بدلہ دیتے وقت انسان کی کمزوریوں کاخیال رکھاجاتاہے۔یعنی یہ دیکھاجاتاہے کہ عام طور پر اس سے کس قسم کے اعمال کاظہو رہواہے۔جسے قاعدئہ اوسط کہاجاتاہے۔دنیا کی تمام جزاء اس اوسط کے قاعد ہ پر مبنی ہے۔حتیٰ کہ حکومتیں پنشن دیتے وقت بھی قاعدئہ اوسط سے کام لیتی ہیں اوریہ دیکھتی ہیں کہ تین سال کی تنخواہ کااوسط کیا ہے پھراس اوسط کے مطابق پنشن دیتی ہیں۔مثلاً اگر کوئی شخص پنشن کے وقت سے تین سال پہلے تین سوروپیہ تنخواہ لیتاتھا۔دوسال پہلے چارسوروپیہ اورآخری سال میں پانچسوتووہ اسے دوسوپنشن دے گی جوچار سوکانصف بنتاہے نہ کہ اڑھائی سوجو