تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 326

والا ہے۔(آیت۶۰و۶۱) اس کے بعد بتایاکہ جب تم لوگ توحید کی اشاعت کے لئے نکلو۔اورمشرک قوموں سے تمہارامقابلہ ہوتوتم ان سے پوچھو کہ آسمانوںاورزمین کو کس نے پیدا کیا ہے اورسورج او رچاند کو بغیر مزدوری کے کس نے بنی نوع انسان کی خدمت پرلگارکھاہے۔کیا تمہارے مزعومہ معبودوں میں سے کسی معبود کا یہ کارنامہ ہے؟ وہ اس کے جواب میں سوائے اس کے کچھ نہیں کہیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کاہی پیداکردہ ہے۔اب دیکھو کہ وہ اس اقرار کے باوجود کس طرف کو بہکے جارہے ہیں۔پھر رزق کی فراوانی اورتنگی بھی ایک قانون کیساتھ وابستہ ہے جس میں کسی غیر معبود کا کوئی دخل نہیں۔اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کوچاہتاہے کشائش عطافرماتا ہے اورجس کو چاہتاہے تنگی میں مبتلاکردیتاہے۔اوریہ رزق کی کمی بیشی بڑی حکمتوںپر مبنی ہے اوراس کے پیچھے ایک علیم ہستی کاہاتھ کام کررہاہے۔(آیت ۶۲و۶۳) پھر فرمایا۔اگر ان مشرک لوگوں سے پوچھو کہ آسمان سے کس نے پانی اتار ا اورکس نے ایک مردہ زمین کو پھر زندہ کردیا ہے۔کیا یہ طاقت تمہارے کسی معبود میں بھی تھی۔تووہ اس کے جواب میں کہیں گے کہ اللہ ہی نے ایساکیا ہے۔توکہہ دے کہ پھر اس سے ثابت ہواکہ اللہ ہی تمام تعریفوں کامستحق ہے اورجب ہر تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے تویہ جھو ٹے معبود کہاں سے آگئے۔جن کا تم ذکر کررہے ہو۔(آیت۶۴) پھربتایاکہ علمی رنگ میں تو ان پر حجت تما م ہو چکی ہے۔مگراس کے باوجودجو انہیں اپنے غلط عقائد پر اصرار ہے توصرف اس لئے کہ خدا کومان کر دنیا چھوڑ نی پڑتی ہے اوردنیا چھوڑ نے کے لئے ان کادل نہیں چاہتا۔حالانکہ یہ دنیوی زندگی لہو اورلعب سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔اصل زندگی وہی ہے جو اگلے جہان میں حاصل ہوتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں اوروہ کشتی بھنور میں پھنس جاتی ہے۔توانہیں اپنے تمام دیوتا بھول جاتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی عقیدت کو مخصوص کرتے ہوئے وہ اسے پو رے درد اور سوز کے ساتھ پکارتے ہیں۔لیکن جب کشتی بھنور میں سے نکل جاتی ہے توپھر شرک کی طرف دوڑپڑتے ہیں۔اورہمارے انعامات کا انکارکر دیتے ہیں۔لیکن ایک دن ایساضرور آئے گا جبکہ وہ اپنے اعمال کی جزا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے توحید کاانکار کرکے کتنی بڑی غلطی کی۔(آیت ۶۵تا۶۷) پھر فرمایا۔کیایہ لو گ نہیں دیکھتے کہ ہم نے مکہ مکرمہ کو کیسی پر امن بستی بنایاہے۔اس کے ارد گرد کے علاقہ میں قتل و خونریزی اورفساد کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔مگرمکہ کے رہنے والوں پر کوئی انگلی تک نہیں اٹھاتا۔پھر کیوں