تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 313

ہے کہ وہ کئی مقامات پرمخاطب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتاہے مگر مراد آپ کی امت کے افراد ہوتے ہیں۔اس جگہ بھی فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِيْرًا لِّلْكٰفِرِيْنَ میں امت محمدؐیہ کے افراد سے خطاب کیاگیاہے۔ورنہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تواللہ تعالیٰ فرماچکاہے کہ قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَ نُسُكِيْ وَ مَحْيَايَ وَ مَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔لَا شَرِيْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ۔(الانعام :۱۶۳،۱۶۴) یعنی توان لوگوں سے کہہ دے کہ میری عبادتیں اور میری قربانیاں اورمیری زندگی اورمیری موت سب اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں۔جو تمام جہانوں کارب ہے او راس کاکوئی شریک نہیں۔اورمجھے اسی امر کاحکم دیاگیاہے اورمیں سب سے پہلا فرمانبردار ہوں۔پس اس جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عبادتیں بھی اورآپؐ کی قربانیاں بھی بلکہ آپؐ کی زندگی بھی اور آپ کی موت بھی سب خداکے لئے تھی۔اورآپ اَنَااَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ کے مصداق تھے۔اورنہ نبوت سے پہلے آپ نے کبھی شرک کیااورنہ نبوت کے بعد۔تویہ تصور بھی کس طرح کیاجاسکتاہے کہ آپ کسی وقت کفار کی مدد کرنے کے لئے کھڑے ہوجائیں گے۔پس فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِيْرًا لِّلْكٰفِرِيْنَ کے مخاطب امت محمدیہؐ کے افراد ہیں اوراللہ تعالیٰ نے بتایاہے کہ اب جبکہ میں نے ایک کامل کتاب نازل فرماکر تمام دنیا کے لئے خیر او ربرکت کاسامان مہیاکردیاہے اورقیامت تک اب کسی اورشریعت کی ضرورت نہیں رہی توتمہارے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ تم اس کتاب کے علوم سے غفلت اختیار کرو۔اوراس پر عمل کرنے میں تساہل سے کام لو۔کیونکہ اگرتم ایساکروگے تو تم دنیا میں گمراہی پھیلانے کاموجب بن جائو گے اوراپنے عمل سے کفار کے مددگار ہوجائو گے۔کیونکہ مومن اورکافر دومختلف راستوں پر جارہے ہیں۔مومن اس کتاب کو اپنے ہاتھ میں لے کرنکلے گا اورکافر اس کتاب کو مٹانے کی کوشش کرے گا لیکن اگر کسی وقت اس کتاب پرایمان رکھنے کادعویٰ کرنے والا ہی اس کتاب کو پس پشت پھینک دے گا تووہ کفار کامددگا رہوجائے گا۔پس اے مسلمانو! تم ہمیشہ اس کتاب کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور کبھی کفار کے ان بد ارادوں میں جو وہ اپنے دلوں میں خدااوراس کے رسول کے نام کو مٹانے کے لئے رکھتے ہیں مددگار مت بنو بلکہ ہمیشہ اس کی تعلیم کو پھیلاتے چلے جائو۔وَ لَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ۔دوسری نصیحت اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی کہ قرآن کریم گوایک کامل کتاب ہے جس کے بعد کوئی شریعت نہیں مگراس کے یہ معنے نہیں کہ نزولِ قرآن کے بعد آیاتِ الٰہیہ کابھی