تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 312
طرح ہو سکتا ہے کہ ہدایت لانے والا ناکام رہے اور گمراہ لوگ کامیاب ہوجائیں۔آخری فیصلہ بہرحال اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس لئے ضروری ہے کہ جو ہدایت لے کر آیا ہے وہ کامیاب ہواوراس کے دشمن ہلاک ہوں۔وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ يُّلْقٰۤى اِلَيْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً اورتُو(کوئی )امید نہیں رکھتاتھا کہ تجھ پر ایک مکمل کتاب نازل کی جائے گی۔مگرتیرے رب کی طرف مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِيْرًا لِّلْكٰفِرِيْنَٞ۰۰۸۷وَ لَا يَصُدُّنَّكَ سے رحمت کے طور پر ایساہوا۔پس تُوکافروں کامددگار کبھی نہ بنیئو۔اور تجھے کوئی شخص اس کے بعد کہ اللہ (تعالیٰ) کی عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا آیتیں تجھ پراتاری گئیں ان سے روکنے والانہ بنے۔اورتُواپنے رب کی طرف (لوگوںکو) تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَۚ۰۰۸۸ بلا اورمشرکوں میں شامل نہ ہو۔تفسیر۔فرمایا۔اے محمدؐرسول اللہ تیرے واہمہ میں بھی یہ بات کب آسکتی تھی کہ تجھ پر اللہ تعالیٰ کی طر ف سے ایک کامل کتاب نازل ہوگی یہ صرف تیرے رب کی رحمت کاہی تقاضاتھاکہ موسیٰ ؑ کی پیشگوئی کے مطابق تجھ پروہ کتاب نازل کی جاتی جو دنیا کے تمام دکھوںکادرماں ہوتی اور جوقیامت تک آنے والی تمام نسلوں کے لئے اپنے اندر ہدایت اورراہنمائی کاسامان رکھتی۔پس اب جبکہ ایسی کامل کتاب ہم نے دنیا میں نازل کردی ہے۔اے محمدؐ رسول اللہ کی پیروی کادم بھرنے والے تُوکبھی کافروں کامدد گار نہ بن۔اس جگہ الکِتٰب کاترجمہ ہم نے ’’کامل کتاب‘‘ اس لئے کیا ہے کہ عربی زبان میں جس چیز پر الف لام داخل ہو۔اس کے ایک معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ چیز اپنی ذات میں کامل ہے۔جیسے الحمد للہ کے ایک معنے یہ ہیں کہ حمد اپنے سارے کمال کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہے۔پس یہاں الکتاب کے معنے ہیں جوتمام روحانی ضرورتوں کے سامان اپنے اندررکھتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہاں بظاہر محمدؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومخاطب کیاگیاہے مگرقرآن کریم کایہ طریق