تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 273

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْھِمُ الْقَوْلُ اس پر وہ مزعومہ شریک جن کے خلاف ہمارے عذاب کی خبر پوری ہوچکی ہوگی کہیں گے کہ اے ہمارے رب !یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیاتھا۔لیکن شرارتاًگمراہ نہیں کیاتھا بلکہ ہم خو د بھی گمراہ ہوچکے تھے۔آج ہم تیرے حضور اپنی برأت کااظہار کرتے ہیں۔یہ لوگ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی ہواوہوس کو انہوں نے اپنا معبود بنایاہواتھا۔اس مضمو ن سے ظاہر ہے کہ اس جگہ ایسے معبودوںکا ذکر ہے جودنیا میں شرارتیں کر کے لوگوں کو بہکادیتے تھے۔نہ کہ کسی غیر مرئی وجود کا۔اورشریک سے مراد واقعہ میں خداقرار دینا نہیں کیونکہ جن کو لوگ واقعہ میں خداقرار دیتے ہیں وہ نہ تو خو د گمراہ ہیں اورنہ کسی کو گمراہ کرتے ہیں بلکہ ان کو تویہ بھی پتہ نہیں کہ لوگ ان کے متعلق کیا کہہ رہے ہیں۔جیساکہ قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اوران کی والدہ کے متعلق آتاہے کہ جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گاکہ اَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کیا تُونے لوگوں سے یہ کہاتھا کہ مجھے اور میری ماںکو اللہ تعالیٰ کے سوامعبود بنالو۔تو حضرت مسیح علیہ السلام جہاں اور جواب دیں گے وہاں ایک یہ جواب بھی دیں گے کہ وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ(المائدۃ: ۱۱۸)یعنی جب تک میں ان میں موجود رہا میں ان کانگران رہا۔مگر جب تو نے میری روح قبض کرلی۔اورمجھے اپنی طرف بلالیاتوتُوہی ان کانگران تھا۔میں نہ تھا۔اورتُو ہی ہرچیز کاحقیقی نگران ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام او ران کی والدہ جنہیں عیسائی خداقرار دیتے ہیں ان کوتوپتہ بھی نہیں کہ لوگ ان کے متعلق کیا خیال رکھتے ہیں۔مگرآیت بتارہی ہے کہ وہ شرکاء کہیں گے کہ خدایاہم نے ان لوگوں کو خود گمراہ کیاتھااوراس وجہ سے کیاتھا کہ ہم خود بھی گمراہ ہوچکے تھے۔پس یہاں ائمۃ الکفر مراد ہیں جو لو گوں کو اپنی وجاہت اوراپنے اثر اوررسوخ کی وجہ سے اپنے پیچھے چلاتے تھے۔وہ یہ عذر پیش کریں گے کہ خدایا ہم نے ان کو وہی باتیں سکھادیں جن کو ہم سچاسمجھتے تھے اوریہ لو گ ان کوا س لئے مانتے تھے کہ خود ان کا اپنادل چاہتاتھا ورنہ ہماراان پر کیازورتھا۔اس کے بعد پھر دوسری قسم کے معبودوں کے متعلق سوال شروع ہوگا جن کی لوگ واقعہ میں عبادت کیاکرتے تھے اورپرستش کرنے والوں سے کہا جائے گاکہ ان شریکوں کو اب بلائو اورانہیں کہو کہ وہ تمہیںاس مصیبت سے بچائیں وہ انہیں پکاریں گے مگران کے معبود ان کوکوئی جواب نہیں دیں گے اورخدائی عذاب کی علامتیں ان کی آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوجائیں گی۔