تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 259
کسی کے پیچھے نماز پڑ ھ رہے ہو توگو تم اس کی اقتداء میں کبھی سجدہ کرو گے کبھی رکوع میںجاؤگے اورمونہہ سے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم وغیرہ بھی کہو گے۔مگرتمہارے دل پر حمد ہی جاری ہوگی۔توقلوب پربعض روحانی واردات آتی ہیں اور وہی حقیقی نماز ہوتی ہیں۔اس وقت انسان گوالفاظ مونہہ سے نکال رہاہوتاہے مگراس کے جذبات روحانیت کے لحاظ سے ایک خاص راستہ پر چل رہے ہوتے ہیں۔پس وہ واردات جو انسانی قلب پر آتی ہیں قرآ ن کریم کی ترتیب اس پر مبنی ہے۔وہ نماز کے بعد روزہ کا ذکر نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتاہے کہ میری یہ آیت پڑھنے کے بعد کیاکیاخیالات انسان کے اندرپیداہوں گے۔پس وہ خیالات جواس کے نتیجہ میں انسانی قلب میں پیداہوسکتے ہیں قرآن کریم ان کو بیان کرے گا۔پس قرآن کریم کی ترتیب ان جذبات پر ہے جوقرآن کریم پڑھتے وقت پیدا ہوتے ہیں۔اور چونکہ خدائے عالم الغیب جانتاتھا کہ فلاں آیت یافلاںحکم کے نتیجہ میں کس قسم کے خیالات پیداہوسکتے ہیں اس لئے بجائے ظاہر ی ترتیب کے اس نے قرآن کریم کی ترتیب ان جذبات پر رکھی جوقلبِ مومن میں پیدا ہوتے ہیں مگراس کا نتیجہ یہ ضرور نکلتاہے کہ جو لوگ محبت اور اخلاص سے قرآن مجید کونہیں پڑھتے انہیں یہ کتا ب پھیکی معلوم ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں یہ کیاہواکہ ابھی موسیٰ ؑ کا ذکر تھا پھر نوح ؑ کا ذکرشروع کردیا۔پھر شعیبؑ کے حالات بیان ہو نے لگ گئے۔ابھی سُود کا ذکر تھا کہ ساتھ نماز کا ذکر آگیا۔ان کے نزدیک یہ باتیں اتنی بے جوڑ ہوتی ہیں کہ وہ ان کا آپس میں کوئی تعلق سمجھ ہی نہیں سکتے۔مگروہی مضمون جب کسی عالم کے پاس پہنچتاہے تووہ سنتاہے اورسر دُھنتاہے۔اگرکہوکہ پھر اس کاعلاج کیا ہے ؟ تویاد رکھنا چاہیے کہ اس کاپہلاعلاج تویہ ہے کہ انسان سارے کلام کو پڑھے اوربار با ر پڑھے۔یہ نہیں کہ کوئی خاص حصہ چن لیا اوراسے پڑھنا شروع کردیا۔دوم جن لوگوں کاجذبہ محبت ہروقت کامل رہتاہے ان کے لئے تویہ کافی ہے کہ و ہ صبح یا شام کا وقت تلاوت کے لئے مقررکریں۔مگرجن کاجذبہ محبت ایساکامل نہ ہو وہ صبح یاشام کو تلاوت کرنے کے علاوہ خصوصیت سے اس وقت بھی تلاوت کیاکریں جب ان کے دل میں محبت کے جذبات ابھر رہے ہوں چاہے دوپہر کو ابھریں یاکسی اوروقت۔سوم قرآن کریم کو اس یقین کے ساتھ پڑھا جائے کہ اس کے اندر غیر محدود خزانہ ہے۔جوشخص خیا ل کرتاہے کہ جوکچھ علماء مجھے اس کا مطلب بتائیں گے یاجوکچھ پہلی تفسیروں میں لکھاہواہے وہیں تک اس کے معارف ہیں اس کے لئے یہ کتاب بند رہتی ہے مگرجوشخص یہ یقین رکھتاہے کہ اس میں علوم اور معارف کے غیر محدود خزانے موجود ہیں۔اس کے لئے یہ کتاب معرفت کاایک بحر بیکراں ثابت ہوتی ہے۔جس طرح اگرتم کسی جنگل میں سے گذر رہے ہوتوتمہارے سامنے ہزاروں درخت آئیں گے مگرتم کسی کوغور سے نہیں دیکھو گے۔لیکن اگر محکمہ جنگلات کاکوئی افسر معائنہ کرنے کے لئے آجائے توو ہ بیسیوں نئی باتیں