تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 238
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی دلیل دیتے ہوئے فرمایاکہ اِنَّہٗ لَایُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ یقیناً ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔یعنی میری سچائی کامعیار یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے کامیاب کرے گااور تم نے مجھے مفتری قرار دے کر جس ظلم کاارتکاب کیا ہے اس کی پاداش میں تم پر عذاب نازل ہوگا۔اس جگہ ظالم سے مفتری علی اللہ بھی مراد ہو سکتا ہے اوروہ شخص بھی مراد ہے جوکسی سچے مامورکاانکار کرنے والاہو۔چنانچہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی فرماتا ہے۔وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْکَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّاجَآئَ ہٗ (العنکبوت :۶۹)یعنی بڑے ظالم دنیا میں دوہی شخص ہواکرتے ہیں۔ایک وہ جو خدا تعالیٰ پر افتراء کرے اوردوسراوہ جوکسی سچے مدعی نبوت کاانکار کرے۔پس اِنَّہٗ لَایُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کواس طرف توجہ دلائی کہ جہاں خدا تعالیٰ پر افتراء ایک قابل پاداش جر م ہے وہاں ایک سچے مدعی کاانکار بھی بڑا بھاری ظلم ہے۔اس لئے صرف مجھے برابھلاکہہ کر خوش نہ ہوجائو۔بلکہ سوچو کہ کہیں تم ہی ایک سچے مامور کاانکار کرکے ظالم تو نہیں بن رہے۔وَ قَالَ فِرْعَوْنُ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ اورفرعون نے کہا اے درباریو ! مجھے اپنے سواتمہاراکوئی معبود معلوم نہیں۔پس غَيْرِيْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِيْ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيْنِ فَاجْعَلْ لِّيْ اے ہامان! میرے لئے گیلی مٹی پر آگ جلا (یعنی اینٹیں بنوا) پھر میرے لئے ایک قلعہ تیار کر۔شاید میں اس صَرْحًا لَّعَلِّيْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّيْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کومعلوم کرلوں۔اورمیں تواس کوجھوٹوں میں سے سمجھتاہوں۔اوراس نے بھی اوراس کے الْكٰذِبِيْنَ۰۰۳۹وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ لشکروں نے بھیملک میں بغیر کسی حق کے تکبر سے کام لیا۔اورخیا ل کیا کہ وہ ہماری طرف لوٹا