تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 230

تَصْطَلُوْنَ۰۰۳۰فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِيَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ پہنچاتومبارک مقام کے ایک مبارک حصہ کی طرف سے ایک در خت کے پاس سے اسے پکاراگیا کہ اے موسیٰ! الْاَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ يّٰمُوْسٰۤى میں اللہ ہوں سب جہانوں کا رب۔اوریہ کہ تواپنا عصاپھینک دے۔پس جب اس نے اس (یعنی عصا) اِنِّيْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَۙ۰۰۳۱وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا کوحرکت کرتے ہوئے دیکھا گویاکہ وہ ایک چھوٹاسانپ ہے وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ يُعَقِّبْ١ؕ (تب اسے کہا گیا ) اے موسیٰ! آگے بڑھ او رڈر نہیں۔يٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِيْنَ۰۰۳۲اُسْلُكْ توسلامتی پانے والے لوگوں میں سے ہے۔(اور)اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال۔وہ بغیر کسی بیماری کے سفید يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوْٓءٍ١ٞ وَّ اضْمُمْ نکلے گا۔اوراپنے بازو کو خوف کی وجہ سے (زورسے )کھینچ کر (اپنے جسم سے )ملا لے۔اِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ یہ دو دلیلیں (علاوہ دوسری دلیلوں کے )جوفرعون اوراس کے درباریوں کی طرف اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ۰۰۳۳ تیرے رب کی طرف سے بھیجی گئی ہیں۔کیونکہ وہ اطاعت سے نکلنے والے لوگ ہیں۔(موسیٰ نے )کہا۔قَالَ رَبِّ اِنِّيْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ اے میرے رب ! میںنے فرعون کی قوم میں سے ایک شخص کو قتل کیاتھا پس میں ڈرتاہوں