تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 215

لَغَوِيٌّ مُّبِيْنٌ۰۰۱۹فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ يَّبْطِشَ بِالَّذِيْ هُوَ تویقیناً ایک کھلا کھلا گمراہ ہے۔پس جب اس نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو پکڑے جو ان دونوں عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ يٰمُوْسٰۤى اَتُرِيْدُ اَنْ تَقْتُلَنِيْ كَمَا قَتَلْتَ کا دشمن تھا تواس (شخص )نے کہا کہ اے موسیٰ!کیاتوچاہتاہے۔کہ تُو مجھے قتل کردے جس طر ح تونے نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِيْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِي کل ایک اَورشخص کو قتل کیاتھا۔تُو صرف یہ چاہتا ہے کہ کمزوروں کو ملک میں دبادے۔اوراصلاح کرنے والوں الْاَرْضِ وَ مَا تُرِيْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِيْنَ۰۰۲۰ میں شامل ہوناتیری غرض نہیں۔حل لغات۔یَتَرَقَّبُ:یَتَرَقَّبُ تَرَقَّبَ سے مضارع معروف واحد مذکر غائب کاصیغہ ہے اور تَرَقَّبَہٗ کے معنے ہیں اِنْتَظَرَہٗ۔اس کاانتظار کیا۔(اقرب) مفردات میں ہے۔تَرَقَّبَ: اِحْتَرَزَ رَاقِبًا یعنی ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اپنی حفاظت کی۔پس یَتَرَقَّبُ کے معنے ہوں گے۔وہ ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے اپنی حفاظت کرتاہے۔یَسْتَصْرِخُہٗ:یَسْتَصْرِخُہٗ اِسْتَصْرَخ سے فعل مضارع واحد مذکر غائب کاصیغہ ہے اور اِسْتَصْرَخَہٗ کے معنے ہیں اِسْتَغَاثَہٗ اسے مدد کے لئے بلایا(اقرب) پس یَسْتَصْرِخُہٗ کے معنے ہیں وہ دوسرے کومدد کے لئے بلاتاہے۔تفسیر۔حضرت موسیٰ علیہ السلام صبح کے وقت پھر شہر کی گشت کے لئے نکلے۔اوراس بات کو تاڑ رہے تھے کہ کوئی میراپیچھا تونہیں کرتا۔اس وقت انہوں نے اچانک دیکھا۔کہ وہ شخص جو کل ان سے مدد مانگ رہاتھا پھر ان کو مدد کے لئے بلارہاہے۔چونکہ وہ روحانی طورپر سمجھ چکے تھے کہ غالباً پہلے دن بھی اس کاکوئی قصور تھا۔دوسرے انہوں نے یہ سمجھا کہ ایک ہی شخص کوساری دنیا مارنے پر کیوں تیار ہوگئی ہے معلوم ہوتاہے کہ یہ شخص بھی جوشیلا ہے اورلوگوں کو بھڑکادیتاہے۔اس لئے انہوں نے کہا کہ اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ۔اے شخص توبڑا فسادی معلوم ہوتاہے۔غَوِیٌّ غَوِیَ