تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 214

جل گئی اور اِسْتَشَاطَ عَلَیْہِ: اِلْتَھَبَ غَضْبًا کے معنے ہوتے ہیں غصہ سے آگ بگولہ ہوگیا۔پس اس جگہ شَیْطَان کالفظ غضب کے معنوں میں ہی استعمال ہواہے۔پھر آپ نے فرمایاکہ اِنَّہٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ۔یہ غصہ انسان کابڑادشمن ہے اوراس پر نسیان غالب کردیتاہے۔چنانچہ ضَلَّ النَّاسِیْ کے معنے ہوتے ہیں غَابَ عَنہُ حِفْظُ الشَّیْءِ کوئی بات یاد نہ رہی یاذہن سے نکل گئی (اقرب) تب انہوں نے سوچا کہ اب فرعون او راس کی قوم تومیرے دشمن ہوجائیں گے۔اوردعاکی کہ اے میرے رب ! اپنی قوم کے ایک آدمی کو مصیبت میں دیکھ کر میں نے اپنے نفس کو تکلیف میں ڈال دیاہے پس میری خاطر اس مصیبت پر پردہ ڈال دے۔غَفَرَ کے اصل معنے پردہ ڈالنے کے ہوتے ہیں۔خواہ مصیبت پر پردہ ڈالنے کے ہوں۔خواہ گناہ پر پردہ ڈالنے کے۔چنانچہ غَفَرَ الشَّیْءَ غَفْرًا کے معنے ہوتے ہیں سَتَرَہٗ اس کو ڈھانپ دیا(اقرب) اس جگہ فَاغْفِرْلِیْ کے معنے مصیبت پر پردہ ڈالنے کے ہی ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس مصیبت پر اس طرح پرد ہ ڈال دیا کہ گورنمنٹ کاکوئی آدمی اس موقعہ پر نہ آیا۔اورپھر بعد میں بھی خدا تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی اورفرعونی حکومت آپ کو قتل کرنے کے ارادہ میں ناکام رہی اورخدا تعالیٰ اپنے بندوں کی مصیبت کودور کرنے والااوربڑارحم کرنے والا ہے۔تب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعاکی کہ اے خدا! چونکہ تُونے مجھ پرایک بڑااحسان کیا ہے آئندہ میں کبھی مجرم کامددگار نہیں ہوں گا۔واقعہ سے توظاہر ہے کہ جس شخص کی انہوں نے مدد کی تھی وہ مجرم نہیںتھا۔لیکن اس آیت میں جوحضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کے لئے مجرم کالفظ استعمال کیاہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ انہوں نے روحانی طورپر یہ اندازہ لگایانہ کہ واقعاتی طور پر۔انہوں نے سمجھا کہ میں نے تونیک دلی سے اس شخص کی مدد کی تھی۔مگرنتیجہ یہ نکلا کہ فرعونی قوم کا ایک آدمی ماراگیا۔اورمیں مصیبت میں پڑ گیا۔پس یہ نتیجہ بتاتا ہے کہ شائد خدا تعالیٰ کی نظر میں اس شخص کاکوئی جرم تھا۔فَاَصْبَحَ فِي الْمَدِيْنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِي اس کے بعد وہ شہر میں صبح کے وقت دشمنوں سے خوف کرتاہوا اورادھر ادھر دیکھتاہوانکلا۔توکیادیکھتاہے کہ اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ يَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ جس نے اس سے کل مدد طلب کی تھی وہ پھر اسے مدد کے لئے بلارہاہے۔اس پر موسیٰ نے اس سے کہا۔