تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 185

پڑھ کرسنائوں۔پھر جوکوئی قرآن سن کراس سے ہدایت پائے گا۔اس کی ہدایت کا اسے ہی فائدہ پہنچے گا۔اورجوکوئی اس سے پیٹھ پھیر کرچلاجائے گا اس پر تجھے کوئی جبر کا اختیار نہیں دیاگیا۔بلکہ توکفار سے کہہ دے کہ مجھے توصر ف ہوشیار کرنے کے لئے بھیجا گیاہے زبردستی مسلمان بنانے کے لئے نہیں بھیجاگیا۔غرض سور ئہ نمل کے آخرمیں قرآن کریم پڑھ کرسنانے کاحکم دیاگیاتھا۔اس حکم کوپوراکرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے سورئہ قصص نازل کی اوراس کے شروع میں ہی فرما دیاکہ طٰسٓمَّ یعنی خدائے لطیف سمیع اورمجید نے یہ سورۃ نازل کی ہے تاکہ اس وعدے کوپوراکیاجائے جوسورہ نمل میں کیاگیاتھااورانہیں ایک ایسی کتاب دی جائے جو سب مضمونوںکوکھول کربیان کرنے والی ہوتاکہ دنیا کے ہرملک اورہرگوشے میں اسے پڑھاجائے اور قیامت تک آنے والی نسلیں اس کی روحانی راہنمائی سے مستفیض ہوتی رہیں۔خلاصہ مضامین اس سورۃ کے ابتدا ء میں حروف مقطعاتطٰسٓمّٓ بیان کئے گئے ہیں۔جن میں خدا تعالیٰ کے لطیف۔سمیع اورمالک یامجید ہونے کی طرف اشار کیاگیاہے اورپھر خدا تعالیٰ کے لطیف اورسمیع ہونے کی مثال کے طور پر حضرت موسیٰ ؑ اورفرعون کاواقعہ بیان کیاگیاہے اورکہاگیا ہے کہ جوواقعہ ہم بیان کریں گے وہی سچاہوگا۔یعنی بائیبل میں جوواقعات بیان کئے گئے ہیں وہ قابل اعتبار نہیںہیں۔(آیت ۱تا۴) فرماتا ہے فرعون نے بہت تکبر سے کام لیا تھا۔او ررعایامیں شدید اختلاف پیداکردیاتھا۔وہ بنی اسرائیل کے بیٹوں کوہلاک کرتاا ور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھتاتھااوراس طرح ان کی طاقت کو کچلناچاہتاتھا۔لیکن ہم نے یہ اراد ہ کرلیاتھا کہ وہ لوگ جوملک میں کمزور سمجھے جاتے ہیں ان کو دنیا کالیڈر بنادیں اور انہیں ویسی ہی نعمتوں کا وارث بنادیں جیسی فرعون کوحاصل تھیں۔اورفرعون او رہامان دونوں کو وہ انجام دکھادیں جس سے وہ ڈررہے تھے۔(آیت ۵تا۷) پھر موسیٰ ؑ کی پیداش کاواقعہ بیان کرتاہے اوربتاتاہے کہ ہم نے اُمِ موسیٰ ؑ کو وحی کی کہ اسے بیشک دودھ پلائو مگرجب تجھے اس کی جان کوخطرہ محسوس ہوتو اسے دریا میں ڈال دے۔امّ موسیٰ ؑ نے ایسا ہی کیا۔اوراسے ٹوکرے میں بند کرکے دریا میں ڈال دیا۔ٹوکرابہتے بہتے فرعون کے محلّات کے پاس سے گذراتوفرعون کے خاندان میں سے کسی نے اسے اٹھالیا۔اوراس خاندان کی ایک عورت نے بادشاہ سے سفارش کرتے ہوئے کہا کہ اسے قتل نہ کریں۔ممکن ہے یہ بڑاہوکر ہمیں کوئی فائدہ پہنچائے یاہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنالیں۔(آیت ۸تا۱۰) ادھر موسیٰ ؑ کی والدہ کایہ حال تھا کہ جب اس نے اپنے بیٹے کو سمندر میں ڈال دیا تواس کے دل پر سے فکروغم کا