تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 174
نہ روس کے ہاتھ میں رکھی ہے اورنہ امریکہ کے ہاتھ میں۔چندسال ہوئے روس کاایک سائینسدان جو ایٹم بم سے تعلق رکھنے والی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کاانچار ج تھا مجھے ملا۔میں نے اسے یہی کہا کہ تم توکہتے ہو کہ ہم پبلک کوفائدہ پہنچانے کے لئے کام کرتے ہیں مگرتم نے جو ایٹم بم بنایاہے اس کاکیا فائدہ ہے ؟ اگرتم ایٹم بم گرادو تو امریکہ تباہ ہوجائے گا اوراگر پہلے امریکہ گرادے تو روس تباہ ہوجائے گا۔مگر امریکہ یاروس کی تباہی سے پبلک کو کیافائدہ۔تمہیں توپبلک کافائدہ سوچناچاہیے۔اورایٹم بم کاکوئی توڑ پیش کرناچاہیے۔تادنیااس سے محفوظ رہ سکے۔وہ کہنے لگا۔اس کاکوئی توڑنہیں نکلا اور نہ ہمارے ذہن میں ا س کاکوئی توڑ آتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس کاتوڑ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھاہواہے اورجب وہ لوگوں کو بچاناچاہے گا تووہ اس کاکوئی نہ کوئی توڑ پیداکردے گا۔بانی سلسلہ احمدیہ کے جوالہامات چھپے ہوئے ہیں۔ان میں ایک جگہ کچھ ہندسے درج ہیں (تذکرہ ایڈیشن تیسرا صفحہ ۱۹۵) اورساتھ ہی ایک نقشہ دیاگیاہے۔بعض احمدی سائینسدانوں کاخیال ہے کہ اس میں جوخول بنے ہوئے ہیں۔یہ بالکل وہی ہیں جو ہائیڈروجن بم میں استعمال ہوتے ہیں۔حالانکہ وہ نقشہ آج سے قریباً ساٹھ سال پہلے کاہے۔جب حضر ت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کواتناعرصہ پہلے اس طرف توجہ دلائی گئی تھی اورانہیں بتایاگیاتھاکہ ایسی ایجاد ہونے والی ہے توجس خدا نے اپنے بندوں کواس ایجاد کی توفیق دی وہ لوگوںکو اس سے بچانے کابھی کوئی نہ کوئی سامان پیداکردے گا۔مجھے بھی ایک دفعہ ایک گیس کے متعلق خبردی گئی تھی۔چنانچہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں ایک کمرہ میں بیٹھاہواہوں کہ کسی شخص نے ایک گیس پھینکی۔میں نے اس گیس کو سونگھ کرکہا کہ اس میں سے توکلورین کی بُوآرہی ہے اورپھر اس کاخیال کرتے ہی میں باہر کی طرف بھاگا۔(آنکھ کھلنے کے بعد میں نے بعض سائینسدانوں سے اس کا ذکر کیا توانہوں نے کہا کہ بیہوش کرنے والی گیس بھی کلورین سے ہی بنتی ہے مگرمیں نے جوخواب میں گیس دیکھی تھی وہ عارضی بیہوش کرنے والی تھی )اس کے بعدمجھ پر سے بھی اثر جاتارہا۔اور دوسرے لوگوں پر بھی کوئی اثر نہ رہا۔اس رؤیاسے بھی میں سمجھتاہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے سامان پیداکردے گا کہ جن کے نتیجہ میں دشمن پر فوقیت بھی حاصل ہوجائے گی اور عام تباہی بھی نہیں آئے گی۔مگراس کاذریعہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کی جائے۔اوردعائوں سے اس کی مدد اور نصرت حاصل کی جائے۔میں جب بیماری کے علاج کے سلسلہ میں یو رپ گیاتوجماعت احمدیہ لنڈن کی طرف سے میرے اعزاز میں ایک دعوت کاانتظام کیاگیا۔جس میں لنڈن کے میئر۔پاکستان کے ہائی کمشنر۔پارلیمنٹ کے ممبر اور کئی سر برآوردہ