تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 173
وَ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي اوراس دن(کوبھی یاد کرو)جس دن بگل میںہوا پھونکی جائے گی جس کے نتیجہ میں آسمانوں اورزمین میں جوکوئی بھی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِيْنَ۰۰۸۸ ہے گھبرااٹھے گا۔سوائے اس کے جس کے متعلق اللہ(تعالیٰ)چاہے گا(کہ وہ گھبراہٹ سے محفوظ رہے) اورسب کے سب اس (یعنی خدا) کے حضورمطیع و فرمانبردارہو کرآئیں گے۔حلّ لُغَات۔فَزِعَ۔فَزِعَ فَزَعًا کے معنے ہیں خَافَ وَ ذُعِرَ۔ڈرگیااورہیبت زدہ ہوگیا۔(اقرب) دَاخِرِیْنَ۔دَاخِرِیْنَ دَخَرَ سے اسم فاعل ہے۔اوردَخَرَ وَدَخِرَ دُخُوْرًاوَدَخَرًاکے معنے ہیں ذَلَّ وَصَغُرَ۔ذلیل اور حقیر ہوا۔(اقرب) تفسیر۔فرمایاتم اس دن کو یاد کرو جس دن صُور پھو نکاجائے گا۔اورآسمان او رزمین میں جو کچھ ہے ڈر جائے گا۔بگل چونکہ فوجوں کو جمع کرنے کے لئے بجایاجاتاہے اس لئے یہاں تمثیلی طورپر بگل کا ذکرکیا۔اوربتایاکہ وہ دن قریب ہے جب تمام قوموں کوایک دوسرے کے مقابل پر کھڑاکردیاجائے گا۔جس کانتیجہ یہ ہوگاکہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی رہتے ہیں سب گھبرااٹھیں گے۔اس آیت میں ہوائی جہازوںاورایٹم بموں کا ذکرمعلوم ہوتاہے۔ہوائی جہاز آسمان میں اڑتے ہیں اورایٹم بم زمین میں پھٹ کرزمین میں رہنے والوں کوتباہ کردیتاہے۔اورپھرآتشیں مادے کو آسمان کی طرف دھکیل دیتاہے۔اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ۔میں بتایاکہ باجود اس کے کہ یہ تباہی عام ہوگی پھر بھی خدا تعالیٰ کے حضور دعا کارستہ کھلارہے گا۔اورجو خدا تعالیٰ کوخوش کرسکے گا و ہ اس تباہی سے محفوظ رہے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سائینسدانوں نے اپنی کوششوں اورتدبیروں کے ساتھ موت کے ذریعہ کو معلوم کرلیا ہے۔مگراسلام کوقائم کرنے والا وہ خداہے جس کے ہاتھ میں موت بھی ہے او رحیات بھی وہ موت کے ذریعہ کو اپنے ہاتھ میں لے کریہ سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا پر حاکم ہوگئے ہیں۔حالانکہ اصل حاکم وہ ہے جس کے قبضہ میں موت اور حیات دونوں ہیں اوراس نے بتایاہے کہ اگرلوگ دعائوں سے کام لیتے رہیں گے تووہ اس تباہی سے بچائوکاکوئی نہ کوئی سامان پیدافرمادےگا۔اس میں کوئی شبہ نہیںکہ ایٹم بم بظاہر قیامت کا ایک نشان نظر آتاہے مگرقیامت خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی ہے اس نے یہ قیامت