تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 168
بدکاریوں کی وجہ سے چمکتاہواسورج بھی سیاہ ہوگیاہے۔اورزمین بھی ڈرانے اور دھمکانے کی خاطر طاعون پیداکررہی ہے۔اگر تم غور سے دیکھو تو یہ مصیبت قیامت کی مصیبت کی طرح ہے اور اس کودورکرنے کاعلاج سوائے نیک اعمال کے اَور کچھ نہیں۔میں نے صرف ہمدردی کی وجہ سے یہ بات کہی ہے۔اب اے دانا اور سمجھدار انسان توآپ بھی غور کرلے۔کیونکہ عقل اسی دن کے لئے ہواکرتی ہے۔ان پیشگوئیوں سے ظاہر ہے کہ آپ نے ۱۸۹۴ ء سے پہلے ایک خطر ناک عذاب اور پھر کھلے لفظوں میں وباء کی پیشگوئی کی۔اورپھر جبکہ ہندوستان میں ابھی طاعون نمودار ہی ہوئی تھی کہ آپ نے خصوصیت کے ساتھ پنجاب کی تباہی کی خبر دی اورآنے والی طاعون کو قیامت کا نمونہ قرار دیا۔اورفرمایاکہ یہ طاعون اس وقت تک نہیں جائے گی جب تک کہ لوگ دلوں کی اصلاح نہیں کریں گے۔اس کے بعد جوکچھ ہواالفاظ اسے ادانہیں کرسکتے۔طاعون کی ابتداء گو بمبئی سے ہوئی تھی اورقیا س چاہتاتھا کہ وہیں اس کادور ہ سخت ہوتا۔وہ تو پیچھے رہ گئی اورپنجاب میں طاعون نے اپنا ڈیرہ لگالیا۔اوراس سختی سے اس نے حملہ کیا کہ بعض دفعہ ایک ایک ہفتہ میں تیس تیس ہزار آدمیوں کی موت ہوئی۔اورایک ایک سال میں کئی کئی لاکھ آدمی مرگئے۔سینکڑوں ڈاکٹر مقررکئے گئے اور بیسیوں قسم کے علاج نکالے گئے مگرکچھ فائدہ نہ ہوا۔ہرسال طاعون مزید شدت او ر سختی کے ساتھ حملہ آورہوئی اورگورنمنٹ منہ دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی اوربہت سے لوگوں کے دلوں نے محسوس کیا کہ یہ عذاب حضر ت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے انکار کی وجہ سے آیا ہے۔چنانچہ ہزاروں نہیں لاکھوں آدمیوں نے ا س قہری نشان کو دیکھ کر صداقت کو قبول کرلیا۔اوراللہ تعالیٰ کے مامور پرایمان لائے۔اوراس وقت تک طاعون کے زور میں کمی نہ ہوئی جب تک اللہ تعالیٰ نے اپنے مامور کو یہ نہ بتایاکہ ’’ طاعون توگئی مگر بخار رہ گیا ‘‘ )حاشیہ’’ تذکر ہ ‘‘ ایڈیشن دوم ص ۵۱۲تاریخ الہام ۲۸ ؍ اپریل ۱۹۰۴ء) اس کے بعد سے طاعون کازو رٹوٹنا شروع ہوگیا اور و ہ برابر کم ہوتی چلی گئی۔یہ پیشگوئی ایسی واضح او رمومن و کافر سے اپنی صداقت کااقرا رکرانے والی ہے کہ اس کے بعد بھی اگر کو ئی شخص ضد کرتاہے تواس کی حالت نہایت قابل رحم ہے۔جس کی آنکھیں ہو ںوہ دیکھ سکتاہے کہ (۱) طاعون کی خبر ایک لمباعرصہ پہلے دی گئی تھی۔اور کوئی طبّی طریق ایساایجاد نہیں ہواجس سے اتنا لمباعر صہ پہلے وبائوں کاپتہ دیاجاسکے۔(۲) طاعون کے نمودار ہونے پر یہ بتایاگیاکہ یہ عارضی دور ہ نہیں ہے۔بلکہ سال بسال یہ بیماری حملہ کرتی چلی جائے