تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 164
لئے اب اللہ تعالیٰ یہ بتاتاہے کہ واضح سے واضح سچائی کاانکار کرنےوالے بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں۔اس لئے محض کسی ہدایت کاکامل ہونااس بات کی دلیل نہیں ہوتاکہ اسے سب لوگ مان لیں گے۔چنانچہ فرماتا ہے اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی جو مُردہ دل لوگ ہوں اوراللہ تعالیٰ کی خشیت اوراس کی محبت کے جذبات سے بالکل عاری ہوں تم ان کو خدا تعالیٰ کی باتیں نہیں منواسکتےوَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ اورنہ تم بہروں کواپنی آواز سناسکتے ہو۔بالخصوص ایسی حالت میں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کرچلے جائیں یعنی آواز تو وہ پہلے ہی نہیں سن سکتے۔پیٹھ پھیر کر چلے جانے کی وجہ سے وہ دوسروں کے اشارے دیکھنے سے بھی محروم ہوجاتے ہیں اور ان کی ہدایت کاکوئی ذریعہ باقی نہیں رہتا۔اسی طرح جو اندھا ہو اور بینا کے پیچھے چلنے کے لئے تیار نہ ہو اس کو بھی اس کی گمراہی سے کوئی نہیں بچا سکتا صرف اسی کو سچائی سنائی اور سمجھا ئی جا سکتی ہے جو ا للہ تعالیٰ کے نشانات پر ایمان رکھتے ہوں اور ایسے ہی لوگ آخر میں مسلمان ہوتے ہیں۔وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ اورجب ان کی تباہی کی پیشگوئی پور ی ہوجائے گی۔توہم ان کے لئے زمین سے ایک کیڑانکالیں گے جو ان الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَؒ۰۰۸۳ کو کاٹے گا اس وجہ سے کہ لوگ ہمارے نشانات پر یقین نہیں رکھتے تھے۔حلّ لُغَات۔تُکَلِّمُھُمْ۔تُکَلِّمُھُمْ کَلَّمَ سے مضارع واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے اور کَلَّمَہٗ کے معنے ہیں حَدَّثَہٗ۔بات کی۔وَجَرَّحَہٗ اس کو زخمی کیا۔(اقرب) پس تُکَلِّمُھُمْ کے معنے ہوں گے ان کو زخمی کرے گا۔تفسیر۔اس میں بتایا کہ جب ان روحانی مردوں اور بہروں اور اندھوں کے خلاف خدا تعالیٰ کا فتویٰ جاری ہوجائے گا اور آسمان سے ان کی سزا کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا۔تو اللہ تعالیٰ زمین میںسے ایک کیڑا نکالے گا۔جو ان کو کاٹے گا۔اور یہ عذاب ان پر اس لئے آئے گا کہ وہ لوگ ہمارے نشانات کی سچائی پر یقین نہیں رکھتے تھے۔اس آیت میں دَآبَّۃُ الْاَرْضَ کے خروج کی جو پیشگوئی کی گئی ہے اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں وضاحتًا فرمایا ہے کہ اس کا خروج آخری زمانہ میں ہوگا جو مسیح اور مہدی کا زمانہ ہے (تفسیر ابن کثیر برحاشیہ فتح البیان جلد ۷صفحہ ۲۳۱)۔اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جب آنے والے مسیح کی