تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 161

میرے سامنے میوہ رکھ دیا اور کہا کھائیے۔مجھے اس فتویٰ کی وجہ سے یوں بھی انقباض تھا۔مگراللہ تعالیٰ نے اس کاسامان بھی پیدا کیاہواتھا۔اوروہ یہ کہ اس روز مجھے کھانسی اور نزلہ کی شکایت تھی۔میوہ میں کشمش بھی تھی جس کاکھانا نزلہ کی حالت میں نزلہ کو اورزیادہ بڑھادیتاہے۔اس لئے میں نے معذرت کی کہ آپ مجھے معاف رکھیں۔مجھے نزلہ کی شکایت ہے میں میوہ نہیں کھاسکتا۔پیرصاحب فرمانے لگے کہ نہیں کچھ نہیں ہوتا۔آپ کھائیں توسہی۔میں نے پھر انکار کیا کہ مجھے اس حالت میں ذراسی بدپرہیزی سے بھی بہت تکلیف ہوجاتی ہے۔اس پر وہ کہنے لگے۔یہ توباتیں ہی ہیں۔کرناتوسب اللہ نے ہوتاہے اور وہی ہوتاہے جو اللہ کرتاہے۔میں نے کہا۔پیرصاحب آپ نے یہ بات بہت بعد میں بتائی۔اگرآپ لاہو ر میں ہی بتادیتے توآپ اور میں ایک نقصان سے بچ جاتے۔کہنے لگے وہ کیا۔میں نے کہا غلطی یہ ہوئی کہ آپ نے بھی ریل کاٹکٹ لے لیا اور میں نے بھی (وہ امرتسر آرہے تھے اورمیں بٹالہ آرہاتھا) اگراس مسئلہ کاپہلے علم ہوتا تونہ ہم ٹانگے پر کرایہ خرچ کرتے نہ ریل کاٹکٹ مول لیتے۔جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں پہنچاناہی تھا تووہ آپ کو امرتسر پہنچادیتا اورمجھے قادیان پہنچادیتا۔ہمیں ٹکٹ پر روپیہ خرچ کرنے کی کیاضرورت تھی۔وہ کہنے لگے تدبیر بھی توہوتی ہے۔میں نے کہا۔بس اسی اسباب کی رعایت کی وجہ سے مجھے بھی میوہ کھانے میں عذر تھا۔توجب انسان کا ذاتی سوال ہوتو اس وقت اسےہزاروں تدبیریں یاد آجاتی ہیں مگرجب خدا تعالیٰ کے دین کامعاملہ ہو تو انسان نہایت بے تکلفی سے کہہ دیتاہے کہ مجھے تدبیر سے کام لینے کی کیاضرورت ہے اللہ خود کرے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دین کا کام اللہ تعالیٰ نے ہی کرناہے اورہمارے کام بھی دراصل وہی کرتاہے۔ہم ہزاروں کام جوکرتے اور کامیاب ہوجاتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کاہی نتیجہ ہے۔ہماری کسی کوشش کاخالصۃً اس میں دخل نہیں ورنہ ہمیں ہرکام میں کامیابی ہو۔لیکن کامیابی ہربات میں نہیںہوتی کسی بات میں ہوجاتی ہے او ر کسی میں نہیںہوتی۔ہزاروں لڑکے محنت کرکے پاس ہوجاتے ہیں اور ہزاروں لڑکے محنت کرنے کے باوجود فیل ہوجاتے ہیں۔ہزاروں کوشش کرتے ہیں اورانہیں عزت مل جاتی ہے او رہزاروں عزت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ پہلے سے بھی زیادہ ذلیل ہوجاتے ہیں۔توتمام کام اللہ تعالیٰ ہی کرتاہے۔مگرا س میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تدبیر کا تعلق ہو وہاں اگر مومن تدبیر نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے سزانازل ہوتی ہےاوروہ اس کی گرفت اور عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔دیکھو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس کی ایک نہایت واضح مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی پیش کی ہے اللہ تعالیٰ نے اس قوم سے یہ وعدہ کیاتھا کہ کنعان کی سرزمین کاانہیں وارث بنادیاجائے گا۔جیسے ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کاوعدہ ہے کہ وہ ہمیں دنیا کا حکمران اور بادشاہ بنائے گا۔مگرا س کاعلاج اللہ تعالیٰ نے یہ بتایاکہ جائواور جنگ