تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 142

ہوا جو ہمیشہ زندہ رہا ہو۔لیکن اگر قومیں چاہیں تو وہ ہمیشہ زندہ رہ سکتی ہیں۔یہی امید دلانے کے لئے حضرت مسیح ؑ ناصری نے فرمایا کہ ’’میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مدد گار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔‘‘ (یوحنا باب ۱۴ آیت ۱۶،۱۷) یعنی یوں تو ہر انسان کے لئے موت مقدّر ہے جس کے نتیجہ میں مَیں تم سے ایک دن جدا ہو جاؤں گا۔لیکن اگر تم چاہو اور اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگتے رہو تو تم ابد تک زندہ رہ سکتے ہو۔پس انسان اگر چاہے بھی تو وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔لیکن قومیں اگر چاہیں تو زندہ رہ سکتی ہیں اور اگر وہ زندہ نہ رہنا چاہیں تو مر جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اِسی زندگی کی امید دلاتے ہوئے’’الوصیۃ‘‘ میں تحریر فرمایا کہ ’’تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے۔اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے۔کیونکہ وہ دائمی ہے۔جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔اوروہ دوسری قدرت آنہیں سکتی جب تک میں نہ جائو ںلیکن جب میں جائوں گا توپھر خدا اس دوسری قدرت کوتمہارے لئے بھیج دے گاجو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔‘‘ (روحانی خزائن جلد ۲۰ رسالہ الوصیت صفحہ ۳۰۵) ’’ہمیشہ ‘‘کے یہی معنے ہیں کہ جب تک تم چاہوگے قدرت ثانیہ تم میںموجود رہے گی۔اورقدرت ثانیہ کی وجہ سے تمہیں دائمی حیات عطا کی جائے گی۔اس جگہ ’’ قدرت ثانیہ ‘‘سے ایک تو وہ تائیدات الٰہیہ مراد ہیں جومومنوں کے شاملِ حال ہواکرتی ہیں۔اور دوسرے وہ سلسلہ خلافت مراد ہے جو نورنبوت کو ممتد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ خود قائم فرماتا ہے۔اگرقو م چاہے اور اپنے آپ کومستحق بنائے توتائیدات الٰہیہ بھی ہمیشہ اس کے شاملِ حال رہ سکتی ہیں۔اوراگرقو م چاہے اوروہ اپنے آپ کو مستحق بنائے توانعامِ خلافت سے بھی وہ دائمی طورپر متمتع ہوسکتی ہے۔خرابیاں ہمیشہ ذہنیت کے مسخ ہونے سے پیداہوتی ہیں۔ذہنیت درست رہے تو کوئی وجہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کسی قوم کو چھوڑ دے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماتا ہے کہ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ( الرعد:۱۲)یعنی اللہ تعالیٰ کبھی کسی قوم کے ساتھ اپنے سلوک میں تبدیلی نہیں کرتا جب تک کہ وہ خود اپنے دلوں میں خرابی پیدانہ کرلے۔اوریہ ایسی چیز ہے جسے ہرشخص سمجھ سکتاہے۔لیکن اتنی سا دہ سی بات بھی قومیں فراموش کردیتی ہیں اور وہ تباہ ہوجاتی ہیں۔انسان کا مرنا توضروری ہے۔اگروہ مرجائے تواس پر کوئی الزام عائد نہیں ہوتا۔لیکن قوموں کے لئے مرناضروری نہیں۔قومیں