حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 72
عداوت ہے۔ایک وقت دوستی پیدا کردے اور ا اس بات پر قادر ہے۔اس کے متعلق کلامِ نبوّت میں نہایت عمدہ نصیحت فرمائی۔اَحْبِبْ حَبِیْبِکَ ھَوْنًامَّا عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ بَغِیْضِکَ یَوْمًا مَّّا وَ اَبْغِضْ بَغِیْضِکَ یَوْمًا مَّا وَاَوبْغِضْ بَغِیْضِک ھَوْنًا مَّا عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ حَبِیْبِکَ یَوْمًامَّا۔کسی سے دوستی کرو تو اس قدر نہ بڑھ جاؤ اور یہاں تک اسے اپنا راز دار نہ بنا لو کہ اگر وہ تمہارا دشمن ہو جائے تو تمہیں نقصان پہنچا سکے اور اگر کسی سے دشمنی کرو تو اس قدر نہ بڑھو کہ اگر وہ تمہارا دوست بن جائے تو پھر تمہیں اپنی باتوں پر شرمسار ہونا پڑے۔کیا پاک تعلیم ہے۔دنیا میں ہزاروں مثالیں ایسی موجود ہیں۔بظاہر موجودہ صورتِ ہالات نے یہی فتوٰی دیا ہے کہ اب ان شخصوں میں کبھی اتحاد نہیں ہو سکتا۔مگر پھر کچھ ایسے واقعات پیدا ہو گئے ہیں کہ وہ جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ایک دوسرے کے جاں نثار بنگ گئے۔اس وقت ناکردنی و ناگفتنی سلوکوں کی یاد کیا تکلیف پہنچاتی ہے۔پس انسان کو چاہیئے کہ پہلے ہی معتدلانہ روش اختیار کرے تاکہ بعد میں شرم یا ندامت پیش نہ آئے۔(تشحیذالاذہان جلد ۷ نمبر۵ صفحہ۲۲۸) ۹۔ ۔جو لوگ تم سے مذہبی عداوت پر نہیں لڑتے۔اور نہ انہوں نے تم کو جلاوطن کیا۔اُن سے سلوک اور انصاف کے برتاؤ سے اﷲتعالیٰ کبھی منع نہیں کرتا۔بلکہ ایسے منصف تو اﷲ تعالیٰ کو محبوب و پیارے ہیں۔اﷲ تعالیٰ تو ان لوگوں کی محبت و دوستی سے تم کو منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے مذہبی جنگ کی اور اسلام کے باعث تم سے لڑے اور تم کو جلاوطن کیا۔اور تمہاری جلاوطنی میں تمہارے دشمنوں کے مدگار ہوئے۔اور جو ایسے دشمنوں سے پیار کریں وہی ظالم ہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۷۶) تارک اسلام آریہ کے اس اعتراض کے جواب میں کہ قرآن کہتا ہے ’’ مشرک ار کافر ناپاک ہیں ان سے دوستی مت لگاؤ‘‘ فرمایا’’ منوادھیا نمبر۲ شلوک نمبر۱۳۔جو شخص وید کے احکام کو بذریعہ علم منطق سمجھ کر وید شاستر کی توہین کرتا ہے۔وہ ناستک یعنی کافر ہے۔اس کو سادہ لوگ اپنی منڈلی سے باہر کر دیں۔کافر کا لفظ بعینہٖ مطبوع نول کشور میں ہے پھر ستیارتھ پرکاش سملاس نمبر۱۰ صفحہ ۳۵۲ فقرہ نمبر۶ میں ہے۔کبھی