حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 557
(مریم: ۹۱) قریب ہے کہ آسمان ٹوٹ پڑیں اور زمین پھٹ جاوے اور پہاڑ گر جاویں۔پس جب تثلیث کا باطل عقیدہ دنیا و مافیہا کی خرابی اور بربادی کا موجب ہے۔تو اس کے بالمقابل توحید اُس کی عمدگی اور آبادی کا باعث ہے۔ایسا ہی قرآن شریف میں ایک اور جگہ آیا ہے۔کہ (الانبیاء:۲۳) اگر زمین و آسمان کے اندر اﷲ کے سوائے کوئی اور معبود ہوتا۔تو ان میں فساد مچ جاتا۔فساد کی دُوری اس سے ہے کہ ان میں توحید قائم کی جاوے۔۱۴۔سورۃ المانِعہ: حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ شبِ معراج میں اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں نے تجھے سورۂ اخلاص عطا کی ہے۔جو عرش کے خزانوں کے ذخیروں میں سے ہے۔اور عذابِ قبر سے روکتی ہے۔۱۵۔سورۃ المحضرہ: کیونکہ اس کے پڑھنے کے وقت فرشتے اس کے سننے کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔۱۶۔سورۃ المنفرۃ: کیونکہ شیطان اسے سُن کر بھاگ جاتا ہے۔۱۷۔سورۃ البراء ۃ: کیونکہ حضرت رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک شخص کو جو یہ سورث پڑھتا تھا فرمایا کہ تو آگ سے بری ہو گیا۔۱۸۔سورۃ المذکرۃ: کیونکہ یہ سورۃ انسان کو خدا تعالیٰ کی توحید یاد دلاتی ہے اور غفلت سے نکالتی ہے۔۱۹۔سورۃ النورؔ حضرت رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر ایک شے کے لئے ایک نور ہوتا ہے اور قرآن شریف کا نور ہے۔۲۰۔سورۃ الامان: حدیث شریف میں آیا ہے، جس کسی نے کہا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وہ اﷲ کے قلعہ میں داخل ہوا، جو قلعہ میں داخل ہوا، اُس نے امان پائی۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اِنِّیْ اُحِبُّ ھٰذِہِ السُّوْرَۃَ۔مَیں اس سورہ ( اخلاص ) سے محبت رکھتا ہوں۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔حُبُّکَ اِیَّاھَا اَدْخَلَکَ الْجَنَّۃَ اس کی محبوت تجھے بہشت میں داخل کر دیگی۔ایسا ہی اور بہت حدیثوں میں اس سورۂ شریفہ کی تعریف آتی ہے کہ یہ قرآن کریم کے تیسرے حصّہ کے برابر ہے۔اور اس کے پڑھنے کے بڑے بڑے فوائد ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے۔کہ اس سورۂ شریفہ میں خالصۃً اﷲ تعالیٰ کی توحید کا ذکر ہے اور تمام انبیاء اور رسول جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتے ہیں۔ان کی بعثت کا اصل منشاء یہی ہوتا ہے۔کہ توحید الہٰی کو دنیا میں قائم کریں۔کہ ایک خدا کی عبادت میں مخلوق کو لگادیں۔اور