حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 517 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 517

دیکھو۔حصرت نبی کریمؐ کی ابتدائی تیرہ سالہ مکّہ کی زندگی کیسی مشکلات اور مصائب کی زندگی ہے مگر باایں کہ آپؐ بالکل تنہا اور کمزور ہیں۔خدا تعالیٰ آپؐ کی زبان سے اجل مکّہ کے بڑے بڑے اکابر قریس اور سردارانِ قوم کو جو اپنے برابر کسی کو دنیا میں سمجھتے ہی نہ تھے۔یوں خطاب کراتا ہے۔قُلْ یَآ اَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ اس سے معلوم ہوتا ہے۔کہ اس کمزوری کی حالت میں بھی خدائی تائید اور نصرت کی وجہ سے جو آپؐ کے شامل حال تھی اور اس کامل اور سچّے علم کی وجہ سے جو آپؐ کو خدا کے وعدوں پر تھا۔آپ میں ایسی قوت اور غیرت و حمیّت موجود تھی کہ آپ تبلیغِ احکامِ الہٰی میں ان کے سامنے ہرگز ہرگز ذلیل نہ تھے۔بلکہ آپ کے ساتھ خدا کی خاص نصرت اور حق کا رُعب اور جلال ہوا کرتا تھا۔پس اس سے مسلمانوں کو یہ سبق لینا چاہیئے کہ حق کے پُہنچانے میں ہرگز ہرگز کمزوری نہ دکھائیں اور دینی معاملات میں ایک خاص غیرت اور جوش اور صداقت کے پُہنچانے میں سچی حمیّت رکھیں۔کافر کا لفظ عرب کے محاورے میں ایسا نہیں تھا جیسا کہ ہمارے ملک میں کسی کو کافر کہنا گویا آگ لگا دینا ہے۔وہ لوگ چونکہ اہلِ زبان تھے۔کوب جانتے تھے۔کہ کسی کی بات کو نہ ماننے والا اس کا کافر ہوتا ہے۔اور ہم چونکہ آپ کی بات نہیں مانتے اس واسطے ٗآپ ہمیں اس رنگ میں خطاب کرتے ہیں۔قرآن شریف میں خود مسلمانوں کی صفت بھی کفر بیان ہوئی ہے جہاں فرمایا ہے۔یَکْفُرُ بِالطَّاغُوْتِ (البقرہ: ۲۴۷)معلوم ہوا کہ کفر مسلمان کی بھی ایک صفت ہے۔مگر آجکل ہمارے ملک میں غلط سے غلط بلکہ خطرناک سے خطرناک استعمال میں آیا ہے۔کسی نے کسی کو کافر کہا اور وہ دست و گریبان ہوا۔اصل میں کافر کا لفظ دل دکھانے کے واسطے نہیں تھا۔بلکہ یہ تو ایک واقعہ کا اظہار و بیان تھا۔وہ لوگ تو اس لفظ اور خطاب کو خوشی سے قبول کرتے تھے۔۲۔۔کے معنے ہوئے کہ وَے اے کافر و ہوشیار ہو کر اور توجہ سے میری بات کو سُن لو۔۳۔۔میں اُن بتوں کی، ان خیالات کیگ اُن رسوم و رواج کی اور ان ظنّوں کی فرماں برداری نہیں کرتا۔جن کی تم کرتے ہو۔ان لوگوں میں اکثر لوگ تو ایسے ہی تھے جو رسوم و رواج۔عادات اور بُتوں کی اور ظنّوں اور وہموں کی پُوجا میں غرق تھے۔ہاں بعض ایسے بھی تھے جو دہریہ تھے۔مگرزیادہ حصّہ ان میں سے اوّل الذکر لوگوں میں سے تھا۔خدا کو بُرا خداجانتے تھے۔اورخدا سے انکار نہ کرتے تھے۔پس ایسے بھی کافر تھے۔جو کدا کو بھی مانتے تھے اور بُتوں سے بھی الگ تھے۔رسم و رواج میں بھی نہ پڑے تھے۔آنحضرت کے پاس آنے