حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 511 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 511

کفر سے پوری بیزاری ظاہر کی گئی ہے۔قُلْ۔کہہ دے۔بول۔یہ خطاب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو ہے۔اور آپؐ کی طفیل تمام مسلمانوں کو ہے۔کہ ایسے کفّار کو جو کفر پر ایسے سچّے ہیں کہ نہ پہلے کبھی انہوں نے خالص اﷲ تعالیٰ کی عبادت کی۔اور نہ آئندہ ان سے ایسی امید ہو سکتی ہے۔ان کو کہہ دو۔کہ تم جو اپنے کفر پر ایسے پکّے ہو اور مسلمانوں کو بُرا سمجھتے ہو۔اس سے حق اور باطل میں تمیز ہو جائے گی۔کہ تم اپنے دین پر پکّے رہو۔اور ہم اپنے دین پر پکّے ہیں۔نتیجہ خود طاہر کر دیگا۔کہ کون سچّا اور منجانب اﷲ ہے۔اور کون جھوٹا اور شیطانی راہ پر ہے۔چونکہ اس سورۃ شریف میں کفّار کو مخاطب کیا گیا ہے۔اور ان کے مذہب کیف بُطلان کے واسطے ایک زبردست دلیل پیس کی گئی ہے۔اسی واسطے یہ کلام بطور ایک چیلنج کے خدا تعالیف نے اپنے رھول کو القاء کیا اور اسی واسطے اس کے شروع میں لفظ قُطْ آیا ہے۔تفاسیر میں قُلْ پر بہت بحث کی گئی ہے۔خلاصہ اس تمام تحریر کا یہ ہے۔کہ یہ سورۃ صریح الفاظ میں کفار کے ساتھ بے زاری کا اظہار کرتی ہے۔اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ان کے ساتھ اس نیت سے کہ وہ سمجھ جاویں۔بہت نرمی کا سلوک کرتے تھے۔اور انکی سخت سے سخت ایذاء رسانی پر صبر کرتے تھے۔اور کسی کے ساتھ ذرا سی سخت کلامی بھی پسند نہ کرتے تھے۔اس واسطے یہ کلام خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا۔جس کا پہنچانا آپ پر فرض ہوا۔اور اس طرح آپؐ نے صاف الفاظ میں صراحت کے ساتھ ان پر ظاہر کر دیا۔کہ ایسے کفّار کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہ ہوا۔نہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔یَآ اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ۔سنو۔اے منکرو!اس میں تین حروف ایک جگہ جمع کئے گئے ہیں۔یَآ(حرف نِدا) اَیُّ ( تخصیص کے لئے ہے)اور ھنا ( تنبیہ کا حرف ہے خبردار کرنے کے لئے) جس سے ظاہر ہوتا ہے۔کہ نہایت تاکید کے ساتھ اچھی طرح منکروں کے کان کھول کھول کر ان کو یہ پیشگوئی سنائی گئی تھی۔کہ تم کو تمہارے اس طریقہ کا بدلہ ملنے والا ہے۔اور تم دیکھ لو گے کہ خداوند تعالیٰ توحید کے پرستاروں کو تمہارے مقابلہ میں کس طرح کامیابی عطا کرے گا۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ یَا نداء النفس ہے اور انیُّ نداء القلب ہے اور ھَانداء الرُّووح ہے۔گویا نفس رُوح اور قلب ہرسہ کو مخاطب کیا گیا ہے۔بعض نے لکھا ہے۔کہ یَآ حرف نداء غائب کے واسطے ہے۔اور اَیُّ حرف نداء حاضر کے واسطے اور ھَاتنبیہ کے واسطے۔کیا حاضر کیا غائب، سب کو نہایت تاکید کے ساتھ سمخاطب کیا گیا ہے۔انبیاء کی دعوت ہمیشہ اسی طرح نہایت تاکید کے ساتھ بار بار لوگوں کو بُلا کر اور مخاطب کر کے پہنچائی