حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 510
ایسی حالت سے خدا تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے۔لَآ اَعْبُدُ۔میں تمہارے بُتوں کی نہ اب پوجا کرتا ہوںاور نہ آئندہ کروں گا۔اس جگہ بُتوں کی عبادت کی نفی حرف لَا کے ساتھ کی گئی ہے۔کیونکہ حرف لَا کی نفی حال اور استقبال ہر دو پر مشتمل ہے۔نہ اب اور نہ آئندہ۔مَا تَعْبُدُوْنَ۔جو کچھ تم عبادت کرتے ہو۔مَا اسم مبہم ہے۔اور مشرکوں کے معبودوں کے ابہام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔کیونکہ مشرک اپنی خواہش بے جا کے سبب خود اپنے اندر ایک شک و شبہ میں پڑا ہوا ہے۔اور ہر روز نیابُت اپنے لئے تراشتا ہے۔اور اُس کا عقیدہ مکڑی کے جالے کی طرح بود اور کمزور ہے۔رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی ذاتِ طیّب اور مبارک کے متعلق غیر اﷲ کی عبادت سے بیزاری اس جگہ حال اور مستقبل میں دو بار کر کے جو بیان کی گئی ہے۔اس میں اشارہ ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اس بات سے معصوم ہیں کہ ان کی حالت میں کجی اور انحراف اور بدی کی طرف تبدیلی واقع ہو۔پس آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کا معبود زمانہ گزشتہ میں بھی ایک خدا ہی تھا اور اب بھی وہی ہے اور آئندہ بھی وہی ایک ہو گا۔برخلاف مشرکین کی یہ حالت ہے۔لَکُمْ دِیْنُکُمْ۔تمہارے لئے پھل اور نتیجہ ہے اس کا جو کچھ کہ تم عبادت کرتے ہو۔شرک ایک قبیح رجس ہے۔پس پہلے کفّار کے حصّے کا ذکر کیا گیا کہ کفّار کو غیر اﷲ کی پرستش کا حصّہ مل کر رہے گا۔توحید سے انحراف اور بُتوں کی پرستش کا انجام تم پر ظاہر ہو گا۔اور جگہ بھی اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔وہ لوگ جن کے دِلوں میں بیماری ہے۔ان کیرِجس پر اَور رِجس بڑھتا ہے۔اور وہ حالتِ کفر میں ہی مر جاتے ہیں۔اور میرے لئے میرا دین۔اس سورۃشریف کا اوّل اس کے آخر کے مطابق ہے۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے کہا میں واحد خدا کی پرستش کرتا ہوں اور تمہارے معبودوں کی پرستش نہ کی ہے۔نہ کرتا ہوں اور نہ کروں گا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ توحید اور اخلاص کا دین مجھے ہی عطا ہوا۔اور ایسا ہی تمہیں تمہارا حساب بھُگتنا پڑے گا۔اور مجھے اپنا۔پس میری نصرت کی جائے گی اور میری عزّت کی جائے گی اور میں تمہارے شہروں کو فتح کروں گا اور اس کے ساتھ دوسرے شہروں کو بھی فتح کروں گا۔اور لوت اﷲ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوں گے اور تم میری مخالفت میں اپنے مال بھی خرچ کرو گے اور پھر بھی مغلوب رہو گے پس یہ دونوں دین بلحاظ اصول اور فروع اور نتیجہ کے یکساں نہیں رہیں گے۔پس اس سورۃ شریف میں