حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 495 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 495

دلائل الخیرات تو اﷲ جل شانہٗ کی کتاب ہی ہے۔اور قطع کرنیوالی تلوار اﷲ تعالیٰ سبحانہٗ کی تلوار ہے اور غنی کرنے والی تو اﷲ تعالیٰ ہی کی کلام مغنی ہے۔بلکہ تمہارے پاس تو اس کے قریب بھی نہیں جو کذّاب نے ایک قول گھڑا تھا اور کہا تھا۔ہم نے تجھے ہی عطا کئے ہیں۔پس اپنے ربّ کے لئے نماز پڑھ اور ہجرت کر۔تیرا بُغض کرنے والا رجل کافر ہے۔اس میں الفاظ اور ترتیب اسی سورت سے نقل کی گئی ہے اور بے موقع و محل الفاظ لگا کر ایک سورت بنا لی گئی۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ان کے واسطے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر ایک کتاب نازل کی ہے جو ان پر پڑھی جاتی ہے۔اس میں مومنوں کے واسطے رحمت اور نصیحت ہے۔(اخبار بدر قادیان ۲۸؍مارچ ۱۹۰۷ء، ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍نومبر ۱۹۱۲ء) یہ (کوثر) ایک مختصر سی سورۃ ہے۔اور اس مختصر سی سورۂ شریفہ میں اﷲ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان پیشگوئی بیان فرمائی ہے۔جو جامع ہے۔پھر اس کے پورا ہونے پر شکریہ میں مخلوق الہٰی کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیئے۔اس کا ارشاد کیا۔وہ پیشگوئی کیا ہے۔: تجھے ہم نے جو کچھ دیا ہے۔بہت ہی بڑا دیا ہے۔عظیم الشان خیر عطا کی۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا دامنِ نبوّت دیکھو تو قیامت تک وسیع، کسی دوسرے نبی کو اس قدر وسیع وقت نہیں ملا۔یہ کثرت تو بلحاظ زمان ہوئی اور بلحاظ مکان یہ کثرت اِنِّیْ رَسُوْلُ اﷲِ ابلَیْکُمْ جَمِیْعً ( الاعراف:۱۵۹) میں ظاہر فرمایا کہ مَیں سارے جہاں کا رسول ہوں۔یہ کوثر مکان کے لحاظ سے عطا فرامئی۔کوئی آدمی نہیں ہے۔جو یہ کہہ دے کہ مجھے احکامِ الہٰی میں اتباعِ رسالت پنا ہی کی ضرورت نہیں۔کوئی صوفی، کوئی مست قلندر، بالغ مرد، بالع عورت کوئی ہو۔اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتے۔اب کوئی وہ خضر نہیں ہو سکتا۔جو لَنْ تَسْتَطبیْعَ مَعِیٰ صَبْرًا بول اُٹھے۔یہ وہ موسٰی ہے۔جس سے الگ نہیں ہو سکتا کوئی آدمی مقرّب نہیں ہو سکتا۔جب تل محمد رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم کی سچّی اتباع نہ کرے۔کتاب میں وہ سچی کوثر عنایت کی کہ فِیْھاَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ ( البیّنۃ:۴) کل دنیا کی صداقتیں اور مضبوط کتابیں سب کی سب قرآن مجید میں موجود ہیں۔ترقی مدارج میں وہ کوثر! کہ جبکہ یہ سچی بات ہے اَلدَّالُ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہٖ پھر دنیا بھر کے نیک اعمال پر نگاہ کرو جبکہ ان کے دَالّ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تو ان کے جزائے نیک آپؐ کے اعمال میں شامل ہو کر سکی ترقی مدارج کا موجب ہو رہی ہے۔اعمال میں دیکھو، اِتِّباع، فتوحات، عادات، علوم، اخلاق میں کِس کِس قسم کی کوثر عطا فرمائی ہیں۔