حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 491
والدین کی نافرمانی نہ کی اور جھوٹ کے بولنے اور یتیم کا مال کھانے سے اجتناب کیا اور بے خبر نیک بخت مومن عورتں پر عیب نہ لگایا۔اور جھوٹ اور عجز اور سستی اور بزدلی اور بخل اور اس قسم کے رذائل سے بچتا رہا۔جن سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے تو ان سب کے اعمالِ خیر میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے واسطے اجر ہے اور عمل کرنیوالوں کے اجر میں کجھ فرق نہیں۔پس یہ ضروری بات ہے کہ ہمارے رسولؐ اور ہمارے حبیب اور ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا ہر آن کس قدر درجہ برھتا ہے کہ آپؐ کی اُمّت میں سے کوئی آپؐکے درجہ تک نہیں پہنچ سکتا۔اﷲ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو آپ کی تمام اُمّت کے افراد کے اعمالِ خیر کے برابر درجہ دیا ہے۔اور اُمّت کے درجات اور اعمالِ خیر کے اجر میں کچھ کمی نہیں واقع ہوتی۔اور یہ اس واسطے ہے کہ ان کی ہدایت اور نجات کا سبب آنحضرت ؐ ہی ہوئے۔پس اے مومنو! اگر تم اﷲ سے پیار کرتے ہو۔تو اس نبی کی پیروی کرو۔خدا تم سے پیار کرے گا۔اور اس کی اتباع میں اور اس کی پیروی میں کوشس کرو۔اس کے حکموں پر عمل کرو۔اور جن باتوں سے وہ منع کرے۔ان سے اجتناب کرو۔اور اعمالِ صالحہ کثرت سے بجا لاو تاکہ تمہارے اجر کے برابر انحصرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا بھی اجر ہو۔اور تم اس بات کے قریب ہو جاؤ کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تمہاری شفاعت کریں۔بہ سبب اس کے کہ آپ کو تمہارے اعمال کے سبب سے اجر ملتا ہے اور خیرِکثیر میں سے یہ عطا الہٰی ہے۔جو کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو وعدہ دیا گیا ہے۔کہ آپؐ کی امّت کی اصلاح کے واسطے ہمیشہ آپؐ کے خلفاء اور نائب آتے رہیں گے جو انہیں ان کے دین میں قوّت عطا کرے۔وہ دین جو خدا نے ان کے واسطے پسند کیا ہے۔اور خوف کے بعد ان کے واسطے پھر امن پیدا کر دے۔جیسا کہ اﷲ تعالیف نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔کہ اﷲ تعالیٰ نے تم میں سے مومنوں کو جو عملِ صالح کریں۔یہ وعدہ دیا ہے کہ انہیں زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا۔اور ان کے واسطے وہ دین قوی کرے گا جو ان کے لئے پسند کیا ہے اور ان کے خوف کو امن کے ساتھ بدل دے گا۔اور اس کی اُمّت میں ہمیشہ ایسے آدمی ہوتے رہیں گے جو حق کو ظاہر کرتے رہیں گے۔ان کا مخالف انہیں کچھ ضرر نہ دے سکے گا۔پھر دیکھو کہ اس زمانہ میں دجّال کا فتنہ کتنا بڑھا ہوا ہے۔کس کثرت سے شراب پی جاتی ہے۔وہ شراب جو بدیوں کی جامع ہے۔اور دیکھو۔کس طرح عورتیں زینت کرتی ہیں اور پھر اپنی زینت کو لوگوں کے سامنے ظاہر کرتی ہیں۔حالانکہ عورتیں شیطانوں کی رسیاں ہیں۔پھر دیکھو کہ مسیحی لوگ کس طرح ڈاکوؤںاور چوروں کی اور ایسے لوگوں کی جو مقدمات میں پھنس جاتے ہیں۔اس